11

کاشتکار گلابی سنڈی اورملی بگ کے تدارک پر بھر پور توجہ دیں،ثاقب علی عطیل

ملتان(سٹاف رپورٹر)اپریل کاشتہ کپاس کی چنائی شروع،زرعی منڈیوں و جننگ فیکٹریوں کی رونقیں بحال ہوگئیں،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب،کاشتکار گلابی سنڈی اورملی بگ کے تدارک کیلئے بھر پور توجہ دیں،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی زیر صدارت ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے کمیٹی روم میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا،اجلاس میں آئی پی ایم پلاٹس سمیت کپاس کی فصل پر حملہ آور کیڑوں کی شدت کی نوعیت کا جائزہ لیا گیا،مختلف کیڑوں کے ہاٹ سپاٹس اور ان کی ٹریٹمنٹ کیلئے ڈسٹرکٹ وائز ڈیٹا پیش کیا گیا،اس موقع پر سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی پنجاب میں زرعی منڈیوں اور جننگ فیکٹریوں کی رونقیں بحال ہونا شروع ہوچکی ہیں،کیونکہ کپاس کی چنائی کا آغاز ہوگیا ہے،اپریل کے پہلے ہفتہ میں کاشتہ کپاس کی فصل سے بہتر پیداوار حاصل ہورہی ہے،لیکن فی ایکڑ زیادہ پیداوار کے حصول کیلئے آئندہ چند ہفتے کاشتکار کو الرٹ رہنا ہوگا،کیونکہ گلابی سنڈی کی دوسری نسل لودھراں، وہاڑی اور ملتان میں نمودار ہوچکی ہے جس کا بروقت تدارک انتہائی ضروری ہے،انہوں نے مزید کہا کہ امسال کپاس کا کاشتکار بہت مطمئن ہے،کیونکہ حکومت نے کپاس کی قیمت 5 ہزار روپے فی من مقرر کی ہوئی ہے،جبکہ مارکیٹ میں اس وقت تیزی ہے اور کاشتکار کو زیادہ منافع حاصل ہورہا ہے،یہی وجہ ہے کہ کاشتکار اپنی فصل پر بھر پور توجہ دے رہا ہے،کاشتکار کپاس کی فصل میں کھادوں کی آخری قسط 31 اگست تک ڈال لیں،انہوں نے کہا کہ کپاس کی گلابی سنڈی اور ملی بگ کے تدارک کیلئے کاشتکاروں کی رہنمائی کے عمل میں تیزی لائی جائے،مساجد میں اور گاڑیوں پر سپیکرلگاکر اعلانات کئے جائیں،انہوں نے کہا کہ یہ وقت دفاتر میں بیٹھنے کا نہیں بلکہ کاشتکار کے کندھے سے کندھا ملاکرفیلڈ میں اس کی درست رہنمائی کرنے کا ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکار روزانہ کی بنیاد پر اپنی فصل کا معائنہ کریں اور ہفتہ میں دوبار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں تاکہ ضرررساں کیڑوں کی صحیح تعداد کو مانیٹر کیا جاسکے۔گلابی سنڈی کے موثر تدارک کیلئے 8 جنسی پھندے فی ایکڑ لگائیں اور 15 دن کے وقفے سے جنسی کیپسول تبدیل کریں۔ ڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان نے کہا کہ گلابی سنڈی کے کنٹرول کیلئے تمباکو کے پتے 3 کلو گرام 10 لٹر صاف پانی میں ڈال کر رات بھر کیلئے رکھ دیں۔ صبح کو ہلکی آنچ پر ابالیں، جب پانی آدھا رہ جائے تو محلول کو صاف ململ کے کپڑے میں چھان کر 100 لٹر پانی میں حل کرکے ایک ایکڑ کپاس کے کھیت میں سپرے کریں۔جبکہ زیادہ حملے کی صورت میں گیماسائی ہیلو تھرین بحساب 100ملی لٹریا سپینٹوریم بحساب 80 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی میں حل کرکے سپرے کریں۔ ملی بگ کے زیادہ حملے کی صورت میں متاثرہ پودوں پر پروفینو فاس بحساب 70 ملی لٹر + امیڈا کلوپرڈ بحساب 40ملی لٹریامیلاتھیان بحساب80ملی لٹر یا کلو تھیناڈن بحساب 30ملی لٹر + بائی فینتھرین بحساب 50 ملی لٹر فی 20 لٹر پانی میں حل کرکے سپرے کریں۔ کاشتکار ہر زہر کے بعد اندر ایک ہفتہ بوٹینیکل مکسچر کا سپرے کر یں تاکہ پیسٹ پریشر بننے نہ پائے اور فصل کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہ ہو۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (ٹاسک فورس) بارک اللہ خان، ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) سید نوید عالم، ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ ڈاکٹر محمد اسلم، ڈاکٹر حیدر کرار، ڈائریکٹر کاٹن ڈاکٹر صغیر احمد، ایگریکلچر سیکرٹریٹ کے افسران، پی سی پی اے سے آصف مجید، ڈائریکٹر سی سی آر آئی ڈاکٹر زاہد محمود، بلال اسرائیل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن عبدالصمدو دیگر نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں