5

کالا دھن، پراپرٹی ڈیلرز، جیولرز، وکلاء اور اکانٹنٹس کیخلاف کارروائی کا فیصلہ

رحیم یارخان،محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن، ایف بی آر اور مختلف انٹیلی جنس اداروں کے ذرائع کے مطابق منی لانڈرنگ کے ذریعے کالے دھن کو سفید کرنے کی انٹرنیشنل ایکٹیویٹی میں پراپرٹی مافیا نمبر ون ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے، اس کی یہ سرگرمیاں پاکستانی اداروں کے ساتھ ساتھ عالمی مانیٹرنگ ایجنسیوں نے بھی نوٹ کر لی ہیں، اسلئے اگلے ماہ جولائی سے کالے دھن کے پہاڑ رکھنے والوں کے فرنٹ مین چاروں شعبوں کیخلاف بڑا اپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،جن میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے علاوہ جیولرز، وکلا اور اکائونٹنٹس بھی شامل ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف شرائط پوری کرنے کیلئے ان چاروں شعبوں سے تعلق رکھنے والے 50 ہزار اداروں اور افراد کونوٹس بھجوائے گئے، نوٹسز جاری ہوئے 3 ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے لیکن یہ چاروں شعبے حکومتی اقدامات کا خاموش اجتماعی بائیکاٹ کیئے ہوئے ہیں، اس لئے اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ نوٹسز کا جواب نہ دینے والے اور ایف اے ٹی ایف شرائط پوری کرنے میں ناکام کاروبار کو سیل کر دیئے جائیں۔ یہ انتہائی اقدامات ایسے صارفین کے خلاف اُٹھائے جائیں گے جو کسی اثاثے کو خریدنے کے لیے اپنی مالی حیثیت سے متعلق مطمئن کرنے میں ناکام رہے ہوں گے یا ایسی متنازع سرمایہ کاری میں بطور ایجنٹ کام کرتے ہوئے ریکارڈ کی فراہمی کی ایف اے ٹی ایف شرائط پوری نہ کرنے پر بضد ہوں گے،ذرائع کا کہنا ہے کہ نیا سخت آپریشن یکم جولائی سے لانچ کیا جائے گا، دوسری طرف ان چاروں شعبوں خاص طور پر رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور جیولرز کی ضلعی سطح کی ایسوسی ایشنز بھی اپنی صف بندی کر رہی ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کی ملی بھگت سے ملک گیر احتجاج، شٹرڈائون ہڑتالوں اور بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ مہم چلانے کی تیاری بھی کر لی گئی ہے، مجوزہ آپریشن کے ذمہ دار ادارے کے ایک اہم افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اعلیٰ بیوروکریسی کی طرف سے حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ نوٹسز کا جواب نہ دینے والے چاروں شعبوں سے تعلق رکھنے والے تمام 50 ہزار اداروں و افراد کے خلاف ایک ساتھ کارروائی شروع کرنے کی بجائے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس، جیولرز، وکلا اور اکائونٹنٹس کو باری باری قانون کا پابند بنانے کا معتدل راستہ اپنایا جائے تاکہ یہ چاروں شعبے اکھٹے ہو کر حکومت کیلئے کوئی نئی پریشانی کھڑی نہ کر سکیں، اس لئے اس بات کا بھی امکان ہے کہ بڑے پیمانے پر پکڑ دھکڑ، دفاتر سیل کرنے اور جائیدادیں ضبط کرنے کے اس آپریشن کا آغاز پراپرٹی مافیا اور رئیل اسٹیٹ ایجنٹس سے شروع کیا جائے، ابتدائی اندازوں کے مطابق رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں منی لانڈرنگ اور کالے دھن کے ذریعے کی جانے والی سرمایہ کاری کھربوں روپے تک پہنچ چکی ہے، رحیم یارخان میں 4 رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کے ذریعے صرف ایک ایم این اے کی ہائوسنگ سکیم کی فروخت کی ڈیل ایک ارب 25 کروڑ روپے میں طے پانے کی اطلاعات ہیں، ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ چار پانچ ماہ قبل طے پایا ہے، اس کی مالیت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صرف اس ایک شعبے میں دوردراز اضلاع اور چھوٹے شہریوں میں بھی کھربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ بڑے شہریوں میں کالے دھن کے اس‘‘بلیک ہول’’کا حجم کتنا ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ جہاں داخل ہونے والی کالے دھن کی کہکشائیں اچانک غائب ہو جاتی ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد سفید ہو کر کسی دوسرے مقام پر فیکٹری، بزنس اور جائیداد کے سورج یا روشن ستارے کی صورت میں چمکنے لگتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں