10

کسان خوشحال پاکستان خوشحال کا نعرہ اپنانا ہوگا


آج سے تقریباً 30 سال پہلے تک پاکستان کو ایک زرعی ملک قرار دیا جاتا اور زراعت کو معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بتایا جاتاتھا مگر آہستہ آہستہ ترجیحات تبدیل ہو گئیں اور اب حالت یہ ہے کہ زراعت سے توجہ ہٹانے کے بعد ہم جن ذرائع پر انحصار کر رہے تھے وہ بھی ملک کی ضروریات کو پوری نہ کر سکے اور زراعت سے حاصل ہونے والے فوائد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے،پاکستان کے طبقاتی نظام میں ایک اہم ترین طبقے ’’کسان‘‘ کو نظرانداز کرنے کے نتائج اب مکمل طور پر سامنے آرہے ہیں،پاکستان دو نقد آور اور منافع بخش فصلوں سے زرمبادلہ کماتا تھا اور وہ دو فصلیں تھیں کپاس اور چاول دنیا بھر میں مصری کپاس کے بعد پاکستانی کپاس کو فائن جانا جاتا تھا،ساہیوال سے سندھ تک کپاس کے کھیت لہلہاتے تھے اور اس علاقے کو کپاس کا علاقہ قرار دیا جاتا تھا جبکہ وسطی پنجاب بالخصوص شیخوپورہ‘ فیصل آباد‘ لاہور‘ گوجرانوالہ‘ سیالکوٹ اور گجرات کو چاول کا علاقہ سمجھا جاتا تھا اسی طرح لیہ ‘ بھکر‘ میانوالی اور انکے گردوانواح کو چنے اور دالوں کیلئے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کا علاقہ آج بھی پھلوں اور میوہ جات کی افزائش اور برداشت کا کوئی ثانی نہیں رکھتا، پاکستانی چاول کو بھی دنیا میں پہلے نمبر پر پسند کیا جاتا تھا ان فصلات کی نسبت سے ملتان میں کاٹن ریسرچ سنٹر اور مرید کے میں رائس ریسرچ سنٹر بھی قائم کئے گئے ان دو فصلات کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کیلئے کاٹن ٹریڈنگ کارپوریشن اور رائس ٹریڈنگ کارپوریشن بھی قائم کی گئیں۔ سال میں دو فصلیں کاشت ہوتی تھیں کپاس کے علاقے میں دوسری فصل گندم کاشت کی جاتی تھی جبکہ چاول کے علاقے میں دوسری فصل کماد (گنا) کاشت کیا جاتا تھا۔ یہ گنا اسقدر گڑ اور شکر پیدا کرتا تھا جس سے قوم کا گزارہ ہو جاتا تھا جبکہ گندم بھی اس قدر پیدا ہوتی تھی کہ کچھ گندم باہرسے منگوا کر قوم آسانی کے ساتھ گزارہ کر لیتی تھی البتہ شہروں کے نزدیک علاقوں میں ضرورت کی سبزیاں بھی پیدا کی جاتی تھیں جبکہ کپاس اور چاول کا علاقہ برقرار تھا۔ خرابی اس وقت پیدا ہوئی جب قوم نے چینی کا استعمال زیادہ شروع کر دیا اور گڑ اور شکر پر انحصار کم کر دیا ۔ زیادہ منافع کمانے کے لالچ میں شوگر ملیں قائم ہونا شروع ہو گئیں جہاں ایک شوگر مل قائم کرنے کی اجازت دی گئی اسکے ساتھ ہزاروں ایکڑ پر کماد(گنا) کی کاشت شروع ہو گئی اسی طرح کپاس اور چاول کا علاقہ کم ہونا شروع ہو گیا،دوسری طرف پاکستان میں پانی کی کمی ہونے کی وجہ سے چاول کی فصل کم ہونا شروع ہو گئی،جبکہ کپاس کی کاشت کو سب سے زیادہ نقصان غیرمعیاری بیج‘ جعلی زرعی ادویات اور مہنگی ترین کھاد نے پہنچایا اسی طرح کسان نے کپاس سے منہ موڑ کر دیگر فصلات کی کاشت شروع کر دی، ان فصلات میں مکئی اور مرچ سرفہرست ہیں کپاس اور چاول کے ریسرچ سنٹرز نے بھی ان فصلات کی تباہی میں مؤثر کردار ادا کیا، یہ سنٹرز نہ تو کوئی بہتر قسم متعارف کروا سکے نہ ہی فصل کو کیڑوں سے بچانے کیلئے کوئی مؤثر لائحہ عمل تیار کر سکے،پاکستان میں کاشتکار/ کسان کو چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلے درجے میں پانچ ایکڑ سے کم رقبہ کاشت کرنیوالے دوسرے درجہ میں پانچ ایکڑ سے ساڑھے 12 ایکڑ‘ تیسرے درجے میں ساڑھے 12 سے 25 ایکڑ اور چوتھے درجے میں 25 ایکڑ سے زائد رقبہ کے کاشتکار شامل ہیں ۔ پہلے درجے میں آنیوالے کاشتکار/ کسان اپنی ضرورت کی گندم کاشت کرنے کے بعد شہروںکے نزدیک ہونے کی وجہ سے سبزیاں کاشت کرتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنے رقبہ کو سکنی ضروریات کے تحت فروخت کرتا جا رہا ہے دوسرے اور تیسرے درجے کے کاشتکار / کسان زیادہ مشکلات برداشت کر رہے ہیں اور سب سے زیادہ استحصال بھی انہی کا ہوتا ہے کیونکہ یہ کاشتکار اگلی فصل کاشت کرنے کیلئے اپنی پچھلی فصل فوراً فروخت کرنا چاہتا ہے جبکہ حکومتی سست روی کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہے جسکی وجہ سے یہ کاشتکار/ کسان اپنی پہلی فصل اونے پونے فروخت کر کے اگلی فصل بروقت کاشت کرتا ہے اور اس جلدی کی وجہ سے اپنی فصل کی مناسب قیمت حاصل نہیں کر سکتا چوتھے درجے کا کاشتکار/ کسان چونکہ خود کفیل ہوتا ہے دربار سرکار میں اثرورسوخ کا مالک بھی ہوتا ہے اسلئے اپنی فصل مناسب قیمت پر بیچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے تاہم کاشتکار/ کسان پاکستان میں نہری پانی کی کمی کی وجہ سے ٹیوب ویل کا مہنگا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ کھاد کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جبکہ بیج اور زرعی ادویات کی مناسب اور اچھی کوالٹی نہ ہونے کی وجہ سے فصل کپاس مسائل کا شکار ہے۔ پاکستان میں زیرزمین پانی کی سطح بتدریج گرتی جا رہی ہے اور آئندہ ڈیم تعمیر نہ ہونے کی صورت میں پاکستان میں پانی کا بحران شدید ترین ہو سکتا ہے حالیہ بجٹ میں بھی زراعت کو مکمل طور پرنظرانداز کیا گیاہے حکومتی یقین دہانی کے باوجود ٹریکٹرز کی قیمت میں ڈیڑھ لاکھ روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ ارباب اختیار اگر زراعت کو اہمیت دیتے ہیں تو کسان کو سہولت مہیا کریں ۔ کھاد‘ بیج اور زرعی مشینری آسانی سے کسان کو دستیاب ہونی چاہئے زرعی قرضوں تک تمام کسانوں کی رسائی ہونی چاہئے ریسرچ سنٹر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے زمین‘ کھاد اور بیج کی اقسام پر توجہ دیں تاکہ پیداوار میں اضافہ ہو سکے اصل زرعی ادویات کی دستیابی بھی یقینی بنائی جائے اسی طرح ایک اہم ترین مسئلہ بھی کسان کو درپیش ہے کہ اس کی فصل کو اچھی قیمت مل سکے خصوصاً آلو‘ ٹماٹر کی فصل کو محفوظ کرنے کیلئے اقدام کئے جا سکیں۔ پاکستان کی خوشحالی کسان کی خوشحالی میں مضمر ہے حکومت کو سنجیدگی سے اس طرف توجہ دینی چاہئے, کسان خوشحال پاکستان خوشحال کا نعرہ اپنانا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں