15

کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کا 100واں یوم تاسیس،پارٹی کی عظیم کامیابیوں پر وائٹ پیپر جاری


دنیا کو انتہائی قلیل عرصے میں اپنی ترقی و خوشحالی سے ورطہ حیرت میں ڈالنے والی دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت عوامی جمہوریہ چین کی ترقی کا راز کمیونسٹ پارٹی آف چائنا ہے،جس کا پہلا فوکس اپنے ملک کو ترقی و خوشحالی کی منازل پر پہنچانا اور پھر دنیا کی غریب اور متوسط ریاستوں کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے ذریعے ترقی دے کر ان کے عوام کو بہترین طرز زندگی کے موقع فراہم کرنا ہے،اور آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ چین یک پارٹی سسٹم کی بدولت اپنے مقصد میں کامیابیوں کا سفر طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے،چین میں کمیونسٹ پارٹی سے محبت کو چین سے محبت کے برابر سمجھا جاتا ہے اور اس جماعت کو حکومت سے لے کر پولیس اور فوج تک سب پر مکمل اختیار حاصل ہے،چین میں ماؤزے تنگ کی شخصیت کی ایک علامتی حیثیت ہے جو گذشتہ صدی میں چین کی تاریخ، ثقافت اور سیاست میںایک واضح لکیر کا درجہ رکھتی ہے۔جبکہ تیانمن سکوائر اس جدید ریاست کا وہ علامتی مرکز ہے جس کی بنیاد ماؤ زے تنگ نے خود اپنے ہاتھوں سے رکھی،کم و بیش نو کروڑ ارکان پر مشتمل اس پارٹی کا ڈھانچہ ایک تکون کی شکل کا ہے جس میں صدر شی جن پنگ سب سے اوپرہیں۔ایک پارلیمان ہے جسے نیشنل پیپلز کانگریس کہا جاتا ہے جو صرف اس پارٹی کی قیادت کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر مہر لگانے کا اختیار رکھتی ہے،موجودہ صدر شی جن پنگ نے 2012 میں اقتدار سنبھالا اور چین کے ایک بین الاقوامی سپر پاور بننے کے عمل کی نگرانی کررہے ہیں،پارٹی نے 2017 میں ان کے صدر کے عہدے پر فائز ہونے کی راہ ہموار کی،پارٹی نے ان کا نام اور نظریہ ملک کے آئین میں شامل کیا۔صدر شی جن پنگ کا چین میں کوئی ثانی نہیں ہے،چین دنیا کی واحد ریاست ہے جس نے اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ ہدف سے 10 سال پہلے اپنے ملک میں غربت کے خاتمے کاعملی مظاہرہ کر دکھایا اور اس کے ساتھ ساتھ 2013 میں دنیا کی خوشحالی کا بیڑا بھی اٹھا لیا،اس بے مثال کامیابی کے پیچھے عوامی جمہوریہ چین کے صدر اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے جنرل سیکرٹری شی جن پنگ کی مدبرانہ ، دلیرانہ اور طلسماتی شخصیت ہے جو 2012 میں صدارت کے عہدے پر براجمان ہونے کے بعد چین کا عالمی سطح پر اثرورسوخ بڑھانے پر کاربند ہیں۔ چینی صدر شی جن پنگ کی جانب سے تجویز کردہ سوشلزم ماڈل کے تین ستون ہیں یعنی قومی تعمیر میں سی پی سی کی تاریخی شراکت ، اعتدال کے ساتھ خوشحال معاشرے کے خواب کی تعبیر اور سوشلسٹ انقلاب کے تسلسل میں سی پی سی کا کردار۔درحقیقت صدر شی جن پنگ کی فکرجس میں پارٹی ، ریاست اور عوام کا ایک بہترین امتزاج موجود ہے اس بات پر زور دیتا ہے کہ یہ تینوں آپس میں مل کر آگے بڑھ رہے ہیں اور اسی وجہ سے صدر شی جن پنگ کی بھرپور توجہ ملکی استحکام اور غربت کے خاتمے پر مرکوزہے،چینی صدرنے اپنے پیغام میں پارٹی کو اصل اصولوں کا وفادار رہنے کی تلقین کی ہے۔ اپنے پیشروؤں کے برعکس صدر شی جن پنگ کی فکر نے چینی سوشلزم کو بین الاقوامی سطح پر توجہ کا حامل بناتے ہوئے چین کو دنیا میں صفِ اول میں لا کھڑا کیا ہے جو چین کے عوام اور ریاست کے تشخص اور کی اعتمادکا مظہر ہے،صدر شی جن پنگ کی جانب سے پارٹی میں اصلاحات کے لئے کی جانے والی کوششوں نے دنیا میں چین کے موجودہ موقف کو مزید واضح کیا ہے جو دراصل نئے ترقی یافتہ چین اور دنیا کے افق پر پہلے نمبر کی معاشی طاقت بننے کی طرف اشارہ کرتا ہے،چین میں آج کمیونسٹ پارٹی آف چائناکے قیام کے 100 سال مکمل ہونے پر جشن منایا جارہا ہے،ملک بھر میں مختلف شہروں کو سجادیا گیا ہے۔آج یکم جولائی سے کئی روز پہلے ہی شنگھائی ، تیانجن ، ووہان اور چونگ کنگ سمیت چینی کے دیگر بڑے شہروں کو روشنیوں سے مزین اور خوب سجا دیا گیا تھا،بیجنگ میں کئی روز سے مرکزی شاہراہوں کے دونوں اطراف پھولوں کی شاندار آرائش کی گئی ہے،پھولوں اور سبزے کی خوبصورت ترتیب ہر جانب چینی کمیونسٹ پارٹی کی سو سالہ شاندار کامیابیوں کی عکاسی کر رہی ہے،کئی شاہرائوں پر چینی کمیونسٹ پارٹی کا پرچم اور اس کے ساتھ سال 1921 اور پارٹی کی تاریخ میں اہم حیثیت رکھنے والے مقامات کے نمونے بھی نمایاںکرکے رکھے گئے ہیں،آج کے دن 1921 میں چین کے جنوبی شہر شنگھائی میں چینی کمیونسٹ پارٹی تشکیل دی گئی تھی اور پارٹی کی پہلی کانفرنس شنگھائی کے قریب جیان شنگ کی جھیل نان حو میں موجود ایک معمولی کشتی میں ہوئی تھی۔ اس روز کے بعد سے چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی میں چین میں انقلاب کا نیا باب شروع ہوا۔خوبصورت اور رنگ برنگ پھولوں کی ترتیب سے 1949 کے ہندسوں کے پس منظر میں آتش بازی کا منظر پیش کیا گیا ہے۔یہی وہ سال ہے جب چینی کمیونسٹ پارٹی کی بھرپور جہدوجہد اور کامیاب رہنمائی کی بدولت عوامی جمہوریہ چین وجود میں آیا،اصلاحات کی پالیسی کے نفاذ کے بعد چین تیزی سے ترقی کے راہ پر گامزن ہے اور ہر شعبے میں شاندار کامیابیاں حاصل کررہا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی میں چین کے دروازے دنیا کے لیے کھل رہے ہیں اور چین عالمی امور میں حصہ لے رہا ہے،اس جذبے کا اظہارسبزے سے ترتیب دیا گیا،دنیا کا نقشہ، سفید اور سرخ پھولوں کی ماہرانہ ترتیب سے سجایا گیا نیشنل سپورٹس سٹیڈیم کا ماڈل ہے۔ جو بیجنگ سرمائی اولمپک کے میسکوٹ کی شکل میں بین الاقوامی سرگرمیوں میں چین کی سرکردگی میں شرکت کے یادگار ہے۔سرخ پھلوں سے تیار کردہ پرچم پر چینی زبان میں ایک جملہ لکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے ’’عوام کو اہمیت دینا‘‘۔یہ چین کے بنیادی اصول کا ترجمان جملہ ہے جس کے تحت چینی کمیونسٹ پارٹی ہمیشہ عوام کو اہمیت دیتے ہوئے تمام فیصلے اور کام کرتی ہے۔ یہی پارٹی کا مشن بھی ہے،خوبصورت مکانات ،پہاڑ، جانور ،درخت، پودے، ہریالی ، اس منظر سے چینی کمیونسٹ پارٹی کی رہنمائی میں خوشحال معاشرے کی تعمیر اور غربت کے خاتمے کی کامیابی کی منظر کشی کی گئی ہے۔ایک سال پہلے چین نے غربت کے خاتمے کے حوالے سے غیر معمولی کامیابی حاصل کی اور اپنے عوام کی زندگی میں خوشحالی کے رنگ بھر دیئے۔ اس طرح سیٹلائٹ اور انسان بردار خلائی مشن سے متعلق نمائشی میٹریل، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں چین کی شاندارکامیابیوں کا آئینہ دار ہے،ایک چھوٹی سی کشی سے دیو ہیکل اور بھرپور قوت کے حامل بحری جہاز بننے تک ، چینی کمیونسٹ پارٹی سو سالوں میں ایک تسلسل کے ساتھ بغیر رکے ، بغیر تھکے آگے بڑھتی رہی ہے۔ پارٹی کی رہنمائی میں چین مختلف شعبوں میں کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے ہوئے ترقی کی شاندار منزل کی جانب رواں دواں ہے،چین کے مرکزی بینک نے چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 100 ویں سالگرہ منانے کے لئے یادگاری سکوں کا ایک سیٹ بھی جاری کیا ہے،۔پیپلز بنک آف چائناکے مطابق اس سیٹ میں 9 سکے ہیں ، جن میں سونے کے تین ، چاندی کے پانچ اور تانبے کے مرکب سے بنا ہوا ایک سکہ شامل ہیں۔سونے کے سکے تصویروں کے مختلف مجموعوں پر مشتمل ہیں ، جن میں شنگھائی میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی پہلی قومی کانگریس کا مقام د کھا یا گیا ہے۔ ان سب سکوں پر چینی کمیونسٹ پارٹی کی خصوصی علامت اور قومی نشان کے نقش کندہ ہیں،چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات نے ’’انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی عظیم کامیابیوں‘‘ کے حوالے سے ایک وائٹ پیپر بھی جاری کیا ہے،جس میں کہا گیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی نے گزشتہ 100 سال میں انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کے شعبے میں ایک بڑا معجزہ تخلیق کیا ہے اور انسانی حقوق کی تہذیب میں ایک نیا تاریخی باب رقم کیا ہے۔ 100 سال سے چینی کمیونسٹ پارٹی ہمیشہ عوام کو اہمیت دیتی آئی ہے اور ان کے تحفظ حقوق کیلئے جدووجہد کر رہی ہے،چینی کمیونسٹ پارٹی نے انسانی حقوق کے عالمی تصور کو حقیقت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے، جس کے مطابق بقا اور ترقی کا حق کسی بھی انسان کے لئے بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خوشگوار زندگی گزارنے کا حق، سب سے بڑا حق ہے۔ اسی تصور کے ساتھ چین سوشلسٹ انسانی حقوق کی راہ پر گامزن ہے۔گزشتہ 100 سال میں چینی کمیونسٹ پارٹی نے دنیا کے لیے اپنے دروازے کشادہ دلی کے ساتھ کھولے ہیں، پرامن ترقی کی راہ اور بنی نوع انسانی کی مشترکہ ترقی کے تصور کو فروغ دیا ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں چین عالمی امن کی مضبوطی میں مسلسل اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ عوامی جمہوریہ چین اپنی 100 ویں سالگرہ یعنی 2049 تک ایک خوشحال، مضبوط، جمہوری، مہذب، ہم آہنگ اور خوبصورت جدید سوشلسٹ ملک بن جائے گا،وائٹ پیپر کے مطابق چین کے جماعتی نظام کو ’’بنی نوع انسان کی سیاسی تہذیب کی عظیم شراکت‘‘ کے طور پر ذکر کرتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا گیاکہ دنیا کا سیاسی پارٹی نظام متنوع ہے اور ایسا کوئی عالمگیر نمونہ نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔دراصل سی پی سی کی کامیابی کا جزو ہزاروں سالوں کی چینی تاریخ اور ثقافت میں ہے، 100 سال پہلے کی قوم اتنی ہی حیرت انگیز اور دور کی قوم ہے جس کی 5000 سال کی تاریخ ہے۔چین میں ایک کمزور اور کمزور نیم نوآبادیاتی دور کے اندر قائم کردہ کمیونسٹ پارٹی نے گذشتہ 100 برسوں میں ترقی کی ایک انوکھی راہ تیار کی ہے۔ پارٹی کی سربراہی میں چین نے 2020ء کے آخر تک بدحالی کو مٹا دیا ، اور اپنے خلائی خواب بھی مرحلہ وار حاصل کئے،چین آج ہر لحاظ سے قابل تقلید ہے،چین کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2021 کے پہلے نصف حصے میں ’’سرخ قدرتی مقامات‘‘ دیکھنے والوں کی تعداد میں سال بہ سال 208 فیصد اضافہ ہوا۔ 2020 ء میں سرخ سیاحت کے دوروں کی تعداد 100 ملین سے تجاوز کر گئی۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اگر 1949 کے آس پاس پیدا ہونے والے چینی باشندے سی سی پی سے فطری وابستگی رکھتے تھے تو آج کی نوجوان نسل بین الاقوامی تناظر میں پارٹی کو حکومت کرنے کی صلاحیت اور ’’عوام کے لئے حکمرانی‘‘ کے حقیقی ارادوں کے ذریعہ تسلیم کرتی ہے۔عالمی ماہرین سمجھتے ہیں کہ ان کے خیا ل میں دیگر ممالک کے لئے کمیونسٹ پارٹی کی کامیابی کا سبق یہ ہے کہ وہ اپنے قومی حالات میں رہتے ہوئے اپنے راستے کا انتخاب کریں،چینی کمیونسٹ پارٹی کے زیرسایہ چین نے لاتعداد کامیابیاں سمیٹی ہیں۔چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بن کر سامنے آیا ، اگر یہی رجحانات جاری رہے تو چین جلد ہی نمبر1 بن کر ابھرے گا۔ ایک فروغ پاتی ہائی ٹیک فوج ، جس میں دنیا کی سب سے بڑی بحریہ شامل ہے۔ جدید اور قابل رہائش وسیع شہر جن میں کاروباری درمیانے طبقے موجود ہیں ۔ یونیورسٹیاں اور تحقیقی مراکز جواگلی صدی کی کلیدی ٹیکنالوجی میں قیادت کرنے کے حوالے سے سرچ کے کام میں مگن ہیں۔ سب سے اہم بات پارٹی کو چینی عوام میں بھرپور حمایت حاصل ہے۔ جن کیلئے 2049ء تک عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی 100 ویں سالگرہ کے حوالے سے کمیونسٹ پارٹی نے طویل المدتی اہداف کا اعلان کررکھاہے کہ وہ چین کو ’’مضبوط ، جمہوری ، مہذب ،عصر حاضر سے ہم آہنگ اور جدید سوشلسٹ ملک‘‘ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں،پنگ زینگوو کا کہنا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ سدا بہار سٹریٹجک شراکت داری کوفروغ دیتا رہے گا،چینی قونصلیٹ جنرل لاہور میں ایکٹنگ قونصل جنرل مسٹر پنگ زینگوونے کہاہے چین کی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنا بہترین کردار ادا کرتی رہے گی ۔ سی پیک پاکستان چین کے لئے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لئے ہے اور اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دن رات محنت جاری رکھیں گے ۔ یہ بات انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کے 100سال مکمل ہونے پر اپنے خصوصی پیغام میں کہی۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے ایک انٹرویو میں چین کے ساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے کے مشکل وقت کے ساتھی ہیں اور آئندہ بھی چین پاکستان کے ساتھ ہر موسم کی سٹریٹجک شراکت داری کو آگے سے آگے فروغ دیتا رہے گا،پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی، ترقی اور مضبوطی کیلئے چین کی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کو ہمیشہ تیار پائے گا،

چینی سفیر مسٹر نونگ رونگ نے کہا ہے کہ نیا پاکستان ویژن اور سی پیک کے حوالے سے بہتر کارکردگی کے لیے چین کی کمیونسٹ پارٹی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات، تعلقات اور لائحہ عمل بنانے کے لیے تیار ہے،کیوں کہ ایسے تعلقات سے ہی مضبوط اور پائیدار ماحول کا قیام ممکن ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ چین کی حکومت نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ تعاون اور مذاکرات پر زور دیا۔گذشتہ دنوں آن لائن اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک کے معاملات پر چین نے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت فوج کے ساتھ تعاون اور مذاکرات پر زور دیا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے چین کی حکومت نے ملک کی اہم اور بڑی سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی سی پیک سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات پر زور دیا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں