12

کوٹ ادو ہسپتال میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے مریضہ جاں بحق،ورثا کا احتجاج

کوٹ ادو(نمائندہ پی این این اردو)تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹ ادو میں ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت سے مریضہ جاں بحق،ورثا کا احتجاج،تفصیل کے مطابق غلام صابر کی بیوی کو گذشتہ سے پیوستہ شب تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال کوٹ ادو ڈلیوری کے لئے لایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے فوری کامیاب آپریشن کیا، اسوقت زچہ بچہ ٹھیک تھے،آپریشن کے کئی گھنٹے بعد گذشتہ روز زچہ کی طبعیت خراب ہوئی تو خون کی کمی کا کہہ کر اسے خون لگایا جس پر اسکی طبعیت مزید بگڑی تو ڈیوٹی پر آن کال ڈاکٹر حسن علی اعوان کو بلایا گیا جو کہ نہ آئے اور خاتون اقراء بی بی خالق حقیقی سے جا ملی،جس پر ورثا مشتعل ہو گئے انکے رشتہ داروں اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد بھیہسپتال پہنچ گئی اور احتجاج شروع کردیا،اس دورانہسپتالمیں موجود ڈاکٹر و عملہ ایک کمرہ میں مقید ہو گئے بعد ازاں ایم ایس ڈاکٹر مہر اجمل اور پی ایم اے کے صدر ڈاکٹر مہر کامران اکبر اور دیگر ڈاکٹروں نے لواحقین سے مذاکرات کئے ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جانے کی یقین دہانی پر کئی گھنٹے بعدلواحقین رات کو نعش اور نو زائیدہ بچہ لیکر گئے،دوسری طرف ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپرواہی پروزیر مملکت ڈاکٹر میاں شبیر علی قریشی نے اس واقعہ کا نوٹس لیا جس پر چیف سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نے انکوائری ٹیم مقرر کرکے سی ای او ہیلتھ مظفر گڑھ ڈاکٹر مہر اقبال سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی ہے جبکہ سی ای او ہیلتھ مظفرگڑھ ڈاکٹر محمد اقبال بھی تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال کوٹ ادو پہنچ گئے اور واقعہ کی تفصیل طلب کی،دوسری طرف ایم ایس ڈاکٹر ماہر اجمل کا کہنا تھا کہ مریض اقراء بی بی کے ورثاء ساڑھے 3بجے اسیہسپتال آئے تھے جن کا سوا4بجے آپریشن ہو گیا تھا تو آپریشن کے بعد وہ ٹھیک حالت میں وارڈ میں شفٹ ہو گئے،مریض کمزور ہونے کی وجہ سے ان کو خون لگایا گیا جو کہ انہیں ریکشن کر گیا ،اس واقعہ کی مکمل انکوائری کر رہے ہیں جو بھی ان میں ملوث ہوا انہیں سزا دلائی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں