13

کپاس انتہائی اہم مرحلے میں داخل، گلابی سنڈی کے کنٹرول کیلئے حکمت عملی تیار کر لی ہے،ڈاکٹر زاہد محمود

ملتان(سٹاف رپورٹر)اس وقت کپاس انتہائی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور پودوں پر ڈوڈی،پھول اور ٹینڈے بننے کا عمل تیزی سے جاری ہے،جبکہ ساتھ ساتھ گلابی سنڈی کا حملہ بھی بڑھتا جا رہا ہے،یہ بات سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہی ہے،ان کا مزید کہنا تھا کہ سی سی آر آئی ملتان کی سروے ٹیم کے مطابق اس وقت پنجاب کے مختلف اضلاع مثلاً خانیوال، میاں چنوں،ملتان، بہاولپور،لودھراں، میلسی، وہاڑی،مظفر گڑھ،ڈی جی خان اور راجن پور میں گلابی سنڈی کے حملہ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اس لئے ہمیں گلابی سنڈی کے لئے ایک اچھی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ گلابی سنڈی کے حملے سے فصل کو بچایا جا سکے،گلابی سنڈی کے خلاف لگا تار3 سپرے بارے اگلے تین ہفتوں کی حکمت عملی بارے انہوں نے کاشتکاروں کو اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ جہاں پر گلابی سنڈی کا حملہ شدت اختیار کر جائے تو وہ پہلا سپرے گیما سائی ہیلوتھرین بحساب 100ملی لٹریا سپنٹورام بحساب100ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں اور اس کے بعد دوسرا سپرے 7دن کے وقفہ سے سپنٹورام بحساب100ملی لٹر یا گیما سائی ہیلوتھرین بحساب 100ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں اور اس کے بعد تیسرا اور آخری سپرے کاشتکار 7دن کے وقفہ سے سائپرمیتھرین+پروفینوفاس600ملی لٹر یا ٹرائی ایزوفاس+ڈیلٹا میتھرین600ملی لٹر فی ایکڑ بحساب 100لٹر پانی کی مقدار میں حل کرکے سپرے کریں۔ ڈاکٹر زاہد محمود کا مزید کہنا تھا کہ جہاں گلابی سنڈی کا حملہ کم ہے وہاں غیر ضروری سپرے کرنے سے اجتناب کیا جائے یا زرعی ماہرین کے مشورہ پر فوری عمل کیا جائے۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ گلابی سنڈی کے حملے کی صورت میں کاشتکار زرعی زہروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ جنسی پھندوں کا استعمال بھی لازمی کریں اس کے لئے کاشتکار جنسی پھندے8 فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں اور ان میں لگے کیپسول کو15تا20دن بعد تبدیل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں