7

کپاس سستی، گھی پر ٹیکس بر قرار، مزید مہنگا ہونے کا خدشہ

رحیم یار خان،وفاقی بجٹ 2021،22 ء میں گھی اور کوکنگ آئل پر عائد نئے بھاری ٹیکسز واپس نہ لئے جانے کے باعث یکم جولائی سے گھی کی قیمتوں میں بیس روپے فی کلو گرام تک اضافے کا خدشہ ہے،حالیہ وفاقی بجٹ میں کاٹن سیڈ آئل کی فروخت پر سترہ فیصد، گھی انڈسٹری پر سیلز ٹیکس کی مد میں اضافی تین فیصد،ڈسٹری بیوٹرز کو گھی کی فروخت پرانکم ٹیکس0.1 فیصد، ریٹیلرزکو گھی کی فروخت پر انکم ٹیکس0.5فیصد جبکہ ادا شدہ سیلز ٹیکس ایڈجسٹمنٹ میں دس فیصد کمی کی گئی ہے جس کے باعث گھی کی قیمتوں میں یکم جولائی سے بیس روپے فی کلو گرام تک اجافے کا خدشہ ہے،پاکستان بناسپتی مینو فیکچررزایسوسی ایشن(پی وی ایم اے) کے سیکرٹری جنرل عمر اسلام خان نے بتایا کہ گھی انڈسٹری پر پہلے سے ہی بھاری ٹیکسوں کا نفاذ کیا گیا ہے اور اس وقت ایک کلو گرام گھی پر نوے روپے سے زائد ٹیکسز عائد ہیں جو دیگر ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں لیکن اس کے باوجود حالیہ وفاقی بجٹ میں گھی انڈسٹری پر مزید ٹیکسز عائد کر دیئے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پی وی ایم اے نے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو بجٹ کے بعد آگاہ کیا تھا کہ ان نئے ٹیکسز کے نفاذ کے گھی کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا خدشہ ہے اس لئے انہیں واپس لیا جائے جس پر وفاقی وزیر خزانہ نے انہیں یقین دہانی بھی کروائی تھی لیکن مذکورہ ٹیکسز واپس نہ لئے گئے۔ دریں اثناء وفاقی بجٹ 2021-22ء میں اعلان کئے گئے کئی نئے ٹیکسز وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران واپس لینے کے فیصلوں میں کاٹن انڈسٹری پر عائد نئے بھاری ٹیکسز واپس نہ لئے جانے کے فیصلے کے باعث پورے کاٹن سیکٹر میں تشویش کی لہر کے ساتھ ساتھ گزشتہ ہفتے کے دوران ملک بھر میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان بھی سامنے آگیا۔کپاس کا مجموعی پیداواری ہدف حاصل نہ ہونے اور ایک بار پھر اربوں ڈالر مالیتی روئی اور خوردنی تیل کی درآمد کے خدشات۔سینئرکاٹن جنرز نے بتایا کہ گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے دوران پاکستان کو ٹیکسٹائل پراڈکٹس کے برآمدی آرڈرز کی تکمیل کے لئے دو ارب ڈالر سے زائد روئی کی درآمدات ہونے کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 2021-22 کو کاٹن ائر قرار دیتے ہوئے کپاس کی کاشت اور اسکی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اقدامات اٹھانے کا وعدہ کیا تھا لیکن اسکے برعکس حالیہ وفاقی بجٹ میں روئی کی فروخت پر عائد سیلز ٹیکس دس فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصداور کاٹن سیڈ آئل پر سترہ فیصد سیلزٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جس کے باعث اسکے براہ راست اثرات پھٹی کی قیمتوں مرتب ہونے سے اسکی قیمتوں میں متوقع کمی کے باعث کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار اور روئی کی برآمدات میں کافی کمی کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں