9

کپاس پر پھول ڈوڈی بننے کا عمل شروع،کاشتکار گلابی سنڈی سے خبرداررہیں،ڈاکٹر زاہد محمود

ملتان،اس وقت کپاس پر پھول ڈوڈی اور ٹینڈے بننے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور یہ وقت کپاس کی فصل کے لئے بہت اہم ہے اس مرحلہ پر کپاس کے کاشتکار گلابی سنڈی کے حملہ سے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر اختیار کریں،کیونکہ ذرا سی کوتاہی یا غفلت پیداورار میں خاطر خواہ کمی کا سبب بن سکتی ہے،یہ بات ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے کاشتکاروں کے نام اپنے اہم پیغام میں کہا ہے،ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ بارشوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی اور رطوبت میں اضافے سے گلابی سنڈی کی نسل آگے بڑھتی ہے اسی لئے اس نازک مرحلے پر فصل کی نگہداشت بہت ضروری ہے،گلابی سنڈی انڈے سے نکلنے کے تقریبا ً30منٹ بعد ہی کپاس کی ڈودی میں داخل ہو جاتی ہے۔گلابی سنڈی کے حملے کی وجہ سے پھول مدھانی نما شکل اختیار کر لیتا ہے اور ٹینڈوں میں سنڈی کے داخلے کے بعد سوراخ بندہوجاتا ہے اور سنڈی اندر ہی اندر بیج کو کھاتی رہتی ہے،سوراخ بند ہوجانے کی وجہ سے متاثرہ ٹینڈے کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے۔ متاثرہ ٹینڈوں کیں سنڈیوں کی تعداد ایک سے زیادہ ہو سکتی ہے،سوراخ بند ہوجانے کی وجہ سے حملہ شدہ کپاس پر سپرے موٗثر نہیں رہتی،اسی لئے گلابی سنڈی کو سپرے سے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے۔ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ کپاس کی گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے زرعی ماہرین نے کچھ طریقہ کار متعارف کرائے ہیں گلابی سنڈی کی مینجمنٹ بذریعہ گوسی پلور(فیرامونز) کے جنسی پھندوں سے بھی کی جاتی ہے جو کہ گلابی سنڈی کے مادہ سے نکلنے والی مخصوص خوشبو سے مشابہت رکھتی ہے جس سے گلابی سنڈی کے نر پروانے متوجہ ہوتے ہیں اور جنسی ملاپ کے لئے کھنچے چلے آتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے یہ جنسی پھندے عام مارکیٹ سے باآسانی مل جاتے ہیں۔جس کی کل قیمت فی ڈبہ160روپے ہے۔اس جنسی پھندے میں جو کیپسول استعمال ہوتا ہے اس ایک کی قیمت تقریبا ً80روپے ہے جبکہ ڈبے کی قیمت بھی 80روپے ہے۔ کیپسول کے کارآمد ہونے کی صلاحیت موسم کے اعتبار پر منحصر ہے اور ایک کیپسول تقربا ً15سے20دن کے استعمال کے لئے کافی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق گلابی سنڈی کی مانیٹرنگ کے لئے5ایکڑ کے بلاک میں ایک جنسی پھندا لگانا چاہئیے۔ اور ایک ہفتہ تک ان جنسی پھندوں کا مشاہدہ کریں اگر 3سے4پروانے فی پھندا فی رات میں نظر آئیں تو ہفتہ وار مشاہدے کی بنیاد پر اس فصل پر سپرے زرعی ماہرین کے مشورہ سے کریں۔ڈاکٹر زاہد نے بتایا کہ اسی طرح10فیصد مدھانی نما پھول نظر آنے پر یا 5سنڈیاں فی100نرم ٹینڈے پر موجود ہوں تو کپاس کے کاشتکار سپرے لازمی کریں۔ جبکہ گلابی سنڈی کی مینجمنٹ کے لئے 6سے8جنسی پھندے فی ایکڑ کے حساب سے لگائیں۔ جنسی پھندوں میں گلابی سنڈی کے نر پروانے پھنس جانے سے اور گلابی سنڈی کی مادہ کا بغیر جنسی ملاپ انڈے دینے سے اس میں سے بچے نہیں نکل سکیں گے اور یوں کھیت میں گلابی سنڈی کی افزائش نسل میں خاصی کمی واقع ہو جائے گی۔ جنسی پھندوں کے استعمال سے کپاس کی فصل کے دوست کیڑوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا اور اس سے سفید مکھی کا کنٹرول بھی ممکن ہو سکے گا۔ڈاکٹر زاہد محمو نے بتایا کہ دوسرا طریقہ کارپی بی روپس کا استعمال بھی گلابی سنڈی کے کنٹرول کے لئے کافی مفید ثابت ہوا ہے جو جنسی پھندوں کی طرز پر ہی کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی بی روپس کے لگائے گئے بلاک میں مادہ کی خوشبو اس قدر پھیل جاتی ہے کہ نر اصل مادہ کو ڈھونڈ ہی نہیں سکتا اور یوں نر اور مادہ کے جنسی ملاپ نہ ہونے کی وجہ سے مادہ جو انڈے دیتی ہے اس میں سے بچے نہیں نکلتے،ایک ایکڑ میں پی بی روپس بحساب120کی تعداد سے لگائے جاتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں