9

کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے،سید حسین جہانیاں گردیزی

ملتان(سٹاف رپورٹر)وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا ہے کہ کپاس کی فصل کے حوالے سے بین الاقومی سطح پر آج ایک خاص دن کا منایا جانا اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے،کپاس دنیا بھر کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلئے خام مال کا واحد ذریعہ ہے اور آج کے دن کا مقصد کپاس کی فصل کی فی ایکڑ پیداوار اضافہ کے لئے درپیش چیلنجز اور ان کے حل کے بارے میں ایک موثر لائحہ عمل تیار کرنا ہے،امید ہے کہ آج کے دن تمام سٹیک ہولڈرز ایسی تجاویز دیں گے جو کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے مفید ہوں،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا شمار کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور کپاس کو پاکستان کی معیشت میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے،کیونکہ ہماری ملکی برآمدات کا 70 فیصد کا انحصار کپاس پر ہے،جس سے ملک کو کثیر زرِمبادلہ بھی حاصل ہوتا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا حصول وقت کی اہم ضرورت ہے،موجودہ حکومت کا نصب العین کاشتکاروں کی خوشحالی ہے اور کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا جارہا ہے،تاکہ ہماری کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہو اور کپاس کی سابقہ حیثیت کو دوبارہ بحال کیا جائے گا،کپاس کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے جس کو پورا کرنے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا،وزیر زراعت نے مزید کہا کہ جاری موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کپاس کے بیج کی پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث پیداوار میں کمی کا سامنا ہے،حکومت اس حوالے سے کپاس کی نئی اقسام کے بیج کی تیاری کی طرف بھرپور توجہ دے رہی ہے جس سے فصل پر سفید مکھی، گلابی سنڈی و دیگر کیڑے مکوڑوں کا حملہ کم ہوگا اور یہ اقسام جڑی بوٹیوں کے خلاف بھی موثر ثابت ہوں گی،جس کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی کے ساتھ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا،صوبائی وزیر زراعت پنجاب نے مزید کہا کہ امسال کپاس کی فصل صوبہ پنجاب میں 38 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ پر کاشت کی گئی ہے جس سے گزشتہ سال کی نسبت 10 لاکھ گانٹھیں زیادہ پیدا ہوئی ہیں جو کہ ایک خوش آئند بات ہے اور یہ ایک انڈیکٹر ہے کہ موجودہ حکومت کی کپاس کی بحالی کے لئے اقدامات مثبت سمت میں جاری ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں