8

کپاس کے کاشتکار اگست میں نائٹروجنی کھادوں کا استعمال دوسے تین قسطوں میں کریں،ڈاکٹر زاہد محمود

ملتان(سٹاف رپورٹر)کپاس کے کاشتکار اگست میں نائٹروجنی کھادوں کا استعمال دوسے تین قسطوں میں کریں،ڈاکٹر زاہد محمود،تفصیلات کے مطابق اگست کا مہینہ کپاس کی فصل کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہے،کیونکہ اس مہینے میں پھول،گڈی اورٹینڈے بننے کا عمل کافی تیزی سے ہوتا ہے،اس لئے کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ اگست میں کپاس کی اچھی پیداوار کے حصول کے لئے نائٹروجنی کھادوں کا استعمال دو سے تین اقساط میں لازمی کریں،تاکہ فی ایکڑ زیادہ سے زیادی پیداوار حاصل ہو سکے،ڈاکٹر زاہد محمود کا مزید کہنا تھا کہ ن کاشتکارنائٹروجنی کھادوں کا استعمال فصل کی بڑھوتری اور پھل کو مدنظر رکھ کر کریں، اس کے علاوہ زنک اور بوران کی کمی کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں زنک سلفیٹ اور بورک ایسیڈ کا سپرے استعمال کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کا باعث بنتا ہے،ڈاکٹر زاہد محمود کا کہنا تھا کہ اگر فصل زنک اور بوران کی کمی کا شکار ہے تو کاشتکار 300گرام زنک سلفیٹ، 200گرام بورک ایسیڈ اور2کلوگرام یوریا لے کر ان سب اشیاء کو علیحدہ علیحدہ برتن میں محلول بنا لیں اور پانی میں ملا کر100لٹر مقدار مکمل کر لیں اور فی ایکڑ کے حساب سے سپرے کریں اس کے علاوہ کاشتکاروں کو چاہئے کہ وہ نمی والے موسم میں کپاس کی فصل میں سفید مکھی اور چست تیلے کے حملے کے بروقت تدارک کیلئے اپنی فصل کی ہفتے میں دوبار پیسٹ سکاؤٹنگ کریں،انہوں نے بتایاکہ پیسٹ سکاؤٹنک کے بعد اگر سفید مکھی یا چست تیلے کا حملہ نقصان کی معاشی حد کو پہنچ جائیں تو کاشتکار سی سی آر آئی ملتان کے زرعی ماہرین یا محکمہ زراعت توسیع و پیسٹ وارننگ کے مقامی زرعی ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں