8

کہروڑ پکا،پولیس کا 18 روز بعد بھی خاتون پر تشدد کا مقدمہ درج کرنے سے انکار

کہروڑپکا،کہروڑپکا تھانہ سٹی کی حدود میں ڈاکو راج،پولیس بے بس عوام لاکھوں روپوں سے محروم،عزتیں پامال،بوڑھی خاتون کو برآمدے کے پلر سے باندھ کر تشدد،نقدی اور زیورات لوٹ لئے،گھریلو سامان بھی اٹھا کر لے گئے،18دن گزرنے کے باوجود بھی پولیس تھانہ سٹی مقدمہ درج کرنے سے انکاری،تفصیلات کے مطابق بستی درکھاناں والی میں ڈاکوں نے رات کی تاریکی میں مکان کی چھت پھاڑ کر گھر کے اندر گھس گئے اور گھر میں موجود عورتوں،بچوں اور بوڑھی عورتوں پر تشدد کیا اور ڈاکوں نے بوڑھی عورت کو برآمدے کے پلر کے ساتھ باندھ کر تشدد کیا اور رات بھر ڈاکوں نے اہل خانہ کو کھڑا رکھا جاتے ہوئے ڈاکو7تولے طلائی زیورات،لاکھوں روپے اور گھریلواشیاء بھی ساتھ لے گئے،پولیس تھانہ سٹی کہروڑپکا کو مورخہ14/6/2021کو ملزمان اور ڈاکوئوں کے خلاف درخواست دی گئی لیکن سابق ایس ایچ او اسماعیل اور تفتیشی افسر مقصود ڈاکوں کے ساتھ یارانے ہونے کی وجہ سے ڈاکوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی بلکہ بوڑھی بے بس اور مفلوظ نسیم مائی سسکیاں بھرتے ہوئے جب تھانے پہنچی ایس ایچ او سٹی اور مقصود نے دھکے دے کر ماؤں جیسی ماں کو تھانے سے باہر نکلوا دیا اور سینہ چیر کر تفتیشی نے آواز اٹھائی کہ آئندہ اس بوڑھی کو تھانہ داخل نہ ہونے دیا جائے نہ آسمان ٹوٹا نہ زمین پھٹی بے بس بوڑھی ماں کو دھکے دے کر تھانے سے نکالا گیا،عوامی سماجی حلقوں کا تفتیشی انسپکٹر مقصود کے خلاف گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او لودھراں سے فوری طور پر نوکری سے برطرف کرنے اور ایف آئی آر درج کرنے اور ڈاکوں کو گرفتار کر کے کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور ہمارا لوٹا ہوا سامان واپس کرایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں