19

گلابی سنڈی کے تدارک بارے سیمینار کا انعقاد

ملتان،حکومت کپاس کی پیداوار میں اضافے اور اسے منافع بخش بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے،ان خیالات کا اظہار سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے سی سی آئی ملتان میں منعقدہ ایک روزہ چھٹے قومی سیمینار برائے “کپاس کی گلابی سنڈی کی مینجمنٹ”کی صدارت کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے مزید کہا کہ کاشتکار ممکنہ حد تک پہلے سپرے میں تاخیرکریں،سفید مکھی،گلابی سنڈی و دیگر ضرر رساں کیڑوں کو نقصان کی معاشی حد سے نیچے رکھنے کیلئے پہلا سپرے پلانٹ ایکسٹریکٹس کا کریں اوراگر زرعی زہروں کا استعمال ناگزیر ہوجائے تو کاشتکارزہروں کو باری باری استعمال کریں تاکہ کیڑوں میں مزاحمت ختم کی جاسکے۔ سیکریٹری زراعت کا کہنا تھا کہ آ ئی پی ایم پروگرام کپاس کی بحالی میں بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوگا،سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کے تحقیقی میدان میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنا ہوگا اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کوششوں سے ہی کپاس کے میدان میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب کا یہ بھی کہنا تھا کہ گلابی سنڈی اور کپاس کے دیگر ضرر رساں کیڑوں کے خلاف بائیولو جیکل کنٹرول کا استعمال کیا جائے اور کاشتکاروں کو فصل کو زیادہ تعداد میں سپرے سے روکا جائے،ان کا مزید کہنا تھا کہ زرعی زہروں کی افادیت چیک کرنے کے لئے مختلف لیبارٹریز قائم کی جا ری ہیں جس سے کپاس کی فصل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے،نائب صدر پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی ڈاکٹرمحمد علی تالپورنے شرکا سے اپنے آن لائن خطاب میں کہا کہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کپاس کی زیادہ پیداوار کے حصول اور بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے بچا ؤکے لیے خصوصی کوششیں کر رہی ہے اورملکی معیشت کے استحکام اور کپاس کے کاشتکاروں کو درپیش چیلنجز کے حل میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے کردار کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ کپاس کی تحقیق وترقی کے میدان میں کام کرنے والے زرعی سائنسدانوں کا کاشتکاروں کے ساتھ ڈائریکٹ رابطہ ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر محمد علی تالپور کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمیں کپاس کی زیادہ پیداوار کے حصول کے لئے اور فصل کوبیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے بچانے کے لئے خصوصی کوششیں بروکائے کار لانا ہوں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ زیر اعظم پاکستان عمران خان بہت جلدکسان پالیسی کا اعلان کرنے جا رہے ہیں اور اس میں زرعی شعبہ کی ترقی و کسان دوست اقدامات اٹھائے جانے کا اعلان کریں گے۔ اس کے علاوہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی چین سے ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے کام کر رہی ہے اور یہ ٹیکنالوجی مقامی کپاس کی اقسام میں منتقل کی جائیں گی جس سے نہ صرف کپاس کے کیڑے مکوڑوں سے نجات مل سکے گی بلکہ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو سکے گا۔ کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبد اللہ نے شرکاء سے آن لائن خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کپاس کیا چھی پیداوار اور کپاس کے کیڑے مکوڑوں خاص کر گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے شارٹ ٹرم ولانگ ٹرم پالیسیاں بنانا ہوں گی اور اس کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جانا ناگزیر ہو چکے ہیں۔ڈاکٹر خالد عبد اللہ کا مزید کہنا تھا آج کے سیمینار کی گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے سفارشات متعلقہ اداروں تک ضرور پہنچنی چاہئیں تاکہ ان سفارشات کی روشنی میں ایک جامع حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ڈائریکٹر سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ،ملتان ڈاکٹر زاہد محمود نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلابی سنڈی کے تدارک کے لیے پی بی روپس اور مکینیکل بول پکر ٹیکنالوجی بہت ضروری ہیں،انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی پنجاب کے تمام اضلاع میں پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی محکمہ زراعت توسیع پنجاب کے ساتھ ٹریننگ پروگرامز کی مشترکہ کوششوں کی بدولت گلابی سنڈی و دیگر کیڑے مکوڑوں کے حملہ کے کنٹرول میں اپنا اہم کردار ادا کرے گی جس کے نتیجے میں پیداوار میں بہتری آئے گی،سی سی آر آئی ملتان کی پوری کوشش ہے کہ آئیندہ سیزن میں بھی کپاس کی بھرپور پیداور حاصل ہو اور آج کا سیمینار بھی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ترقی پسند کپاس کے کاشتکار و کاٹن ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ بورڈ کے چیئرمین بلال اسرائیل نے کہا کہ کپاس میں انقلاب لائے
بغیر ملکی معیشت کسی صورت بہتری کی جانب گامزن نہیں ہو سکتی۔اس کے علاوہ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کو چاہئیے کہ وہ ریسرچ داروں کے فنڈز کی دستیابی کو یقینی بنائے کیونکہ ریسرچ پر سرمایہ کاری کے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ ان کا مزید کہنا تھا حکومت کپاس کی امدادی قیمت کا فوری اعلان کرے اور کاٹن زون میں گنے اور دیگر فصلات کی کاشت پر پابندی عائد کرے۔ اور کاشتکاروں کو چاہئیے کہ وہ زرعی ماہرین سے ہر وقت رابطہ میں رہیں۔ اجلاس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملکی اقتصادی ترقی میں کپاس کی جتنی اہمیت ہے اتنی ہی یہ حساس فصل بھی ہے اس فصل پر حملہ ہونے والے اور اس کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں کی تعداد دنیا کے کسی بھی کپاس پیدا کرنے والے ممالک سے زیادہ ہے لیکن آج ہمیں جوسب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے وہ گلابی سنڈی کا ہے اس نقصان اور خطرہ کے پیش نظر سی سی آر آئی ملتان نے بروقت قدم اٹھایا ہے اور اس اہم قومی نوعیت کے پروگرام کا انعقاد سے کاشتکار بھائیوں کو اس سنڈی کے نقصان سے بچانے کے لیے مفید معلومات و تربیت فراہم کی جا سکے گی اجلاس میں جن مقررین نے خطاب کیا ان میں سربراہ شعبہ حشریات سی سی آر آئی ملتان ڈاکٹر رابعہ سعید، ایوب ایگریکلچر انسٹیوٹ سے ڈاکٹر فیصل حفیظ،نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان سے ڈاکٹر شفقت سعید، زرعی کالج ڈوکری سندھ سے ڈاکٹر شاہنواز کھوڑو،، سی سی آ ر آئی انفارمیشن آفیسر ساجد محمو،ڈاکٹر فرحان سی سی آر آئی سکرنڈد اورترقی پسند کاشتکاروں نے بھی شرکاء سے خطاب کیا، سیمینار میں پبلک وپرائیویٹ سیکٹرز کے نمائندگان ا،زرعی ماہرین اور کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اس موقع پر ادارہ ہذا میں مختلف کمپنیوں کی طرف سے زرعی سٹال بھی لگائے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں