17

یوسف رضا گیلانی نے کونسلرز لیول کے 12لوگوں کو پیپلز پارٹی میں شامل کرا کر بلاول بھٹو سے ہاتھ کیا،عون عباس بپی

ملتان(سٹاف رپورٹر)تحریک انصاف جنوبی پنجاب کے صدر، سینیٹر عون عباس بپی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں بلاول بھٹو کا جنوبی پنجاب کا دورہ ناکام رہا،سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کونسلرز لیول کے 12لوگوں کو پیپلز پارٹی میں شامل کروا کر بلاول بھٹو سے ہاتھ کردیا،شہباز شریف سمیت چینی چوروں کا بھی احتساب ہورہا ہے،مخدوم شاہ محمود قریشی سے اختلافات ختم کرکے ملتان آیا ہوں،سب کو ساتھ لیکر چلوں گا،تحریک انصاف کے کارکن بیوروکریسی کے زریعے عوام کے مسائل حل کرائیں بیوروکریسی کو بھی عوام کے لئے دروازے کھولنے ہوں گے،بلدیاتی الیکشن میں کارکنوں کو سامنے لائیں گے چوروں اور لٹیروں کے خلاف عمران خان کی قیادت میں ملتان سے مہم کا آغاز کریں گے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ خانیوال روڈ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ارکان اسمبلی سبین گل، حاجی ملک سلیم لابر، مہندر پال سنگھ ، اشرف رند، نیاز گشکوری،شاہدہ ملکہ، میاں طارق عبد اللہ، مہدی عباس لنگاہ، خالد جاوید وڑائچ، اعجاز حسین جنجوعہ، ڈاکٹر روبینہ اختر، آصفہ سلیم ملک، غزل غازی، سعدیہ بھٹہ ، فرخ زبیر ، جواد امین ، سلیم بخاری سمیت دیگر جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے ارکان اسمبلی ، جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عہدیداران بھی موجود تھے،عون عباس بپی نے مزید کہا کہ عمران خان نے پارٹی کے لئے جس قدر محنت کی اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ آج جنوبی پنجاب میں پی ٹی آئی کی اکثریت اور دیگر جماعتوں کا صفایا ہوچکا ہے عمران خان نے اپنی محنت سے میرے جیسے کئی عمران خان پیدا کردیئے ہیں،مجھے جنوبی پنجاب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد پہلا ہدف دیا گیا کہ میں جنوبی پنجاب میں پارٹی کارکنوں میں اختلافات ختم کراﺅں چنانچہ میں نے سب سے پہلے مخدوم شاہ محمود قریشی سے اپنا اختلاف کیا اور گذشتہ روز ان کے دفتر جاکر ان سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ یہ طے کیا کہ ہم مل کر جنوبی پنجاب میں نہ صرف پی ٹی آئی کو مضبوط کریں گے،بلکہ اس خطے سے چوروں اور لٹیروں کو بھگائیں گے چنانچہ میرا یہ اعلان ہے کہ میں سب کو ساتھ لیکر چلوں جس سطح پر بھی تنظیمی اختلافات ہوں گے انہیں ختم کراﺅں گا،انہوں نے کہا کہ میرا دوسرا ہدف بلدیاتی الیکشن ہے دو دن بعد ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں اگرچہ ہمارے کارکنوں نے خوب محنت کی ہے اچھے نتائج سامنے آئیں گے،لیکن میرا ہدف مارچ میں متوقع ہونے والے بلدیاتی الیکشن ہیں جس میں پارٹی کے نوجوانوں اور کارکنوں کو سامنے لایا جائے گا اور ہم بلدیاتی الیکشن بھرپور طریقے سے جیتیں گے اور انہی بلدیاتی نمائندوں کے زریعے 2023کے الیکشن میں ایک بار پھر اکثریت حاصل کرکے عمران خان کو وزیراعظم بنائیں گے کیونکہ میں 2023کے سونامی کو دیکھ رہا ہوں تحریک انصاف 2023کے الیکشن میں جنوبی پنجاب کی قومی اسمبلی کی کل 46میں سے 40اور صوبائی اسمبلی کی 96میں سے 75نشستیں جیتیں گے جنوبی پنجاب جو پہلے ہی پی ٹی آئی کا گڑھ ہے اب اسے عمران خان کا مضبوط قلعہ بنائیں گے،سینیٹر عون عباس بپی نے بلاول بھٹو کے حالیہ دورے کو ناکام ترین قرار دیا اور کہا کہ ان کے دورے سے قبل بہت شور کیاجارہا تھا کہ جنوبی پنجاب کی سیاست میں بہت بڑا طوفان آنے والا ہے لیکن جب بلی تھیلے سے باہر آئی تو کونسلرز لیول کے 12لوگوں کو شامل کیا گیا اس طرح سید یوسف رضا گیلانی نے بلاول بھٹو سے ہاتھ کردیا انہوں نے کہا کہ بلاول کے والد نے کرپشن کے کئی ریکارڈ قائم کئے ہیں اور حال ہی میں (امریکہ ) میں ان کا 40کروڑ سے زائد کا فلیٹ سامنے آیا جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ہم 2018میں اسے ڈیکلیئر کرنا بھول گئے تھے بلاول ذوالفقار علی بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو کے فرزند نہیں بلکہ زرداری کے فرزند ہیں اور لاڑکانہ، تھرپار کر کے حالات سب کے سامنے ہیں سندھ کی محرومیاں تو وہ ختم نہیں کرسکے جنوبی پنجاب کی محرومیاں کہاں ختم کریں گے،انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے پاس نہ تو کوئی ایجنڈا ہے اور نہ ہی کوئی اتحاد ہے ہر لیڈر کی اپنی زبان ہے اور خاص طور پر شہباز شریف، مریم نواز ایک دوسرے کے بیانیے کی تردید میں لگے رہتے ہیں،عون عباس بپی نے مزید کہا کہ گذشتہ تین سال سے میرا مخدوم شاہ محمود قریشی سے اختلاف چل رہا تھا میں خودان کے پاس چل کر گیا اور اپنا اختلاف ختم کیا میں جنوبی پنجاب کے کارکنوں سے کہوں گا کہ وہ آپس کے اختلافات ختم کریں اور ایک ہوجائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ بااختیار ہو چکا ہے یہ صوبے کے قیام کی پہلی سیڑھی ہے جب اسمبلی میں صوبے کا بل آیا تو رانا ثناءاللہ نے بہاولپور صوبے کی قرار دادجمع کرادی اگر (ن) لیگ ساتھ دے تو آج بھی صوبے کا بل اسمبلی میں لانے کو تیار ہیں ملتان اور بہاولپور میں علیحدہ علیحدہ سیکریٹریٹ کے قیام کا مقصد عوام کو ریلیف دینا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوام کے مسائل ان کے دروازے پر حل ہوں اصل میں سیکریٹریٹ کو تنقید کا نشانہ بنانے والے خود صوبے کے قیام سے مخلص نہیں ہیں پیپلز پارٹی کو موقع ملا لیکن انہوں نے یہ موقع گنوا دیا ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 9چینی چوروں کے خلاف کاروائی جاری ہے جس میں تین پی ٹی آئی کے ہیں جن کا احتساب جاری ہے اور معاملات کیونکہ عدالتوں میں ہیں اسی لئے مزید تبصرہ نہیں کرتے تاہم یہ حقیقت ہے کہ احتساب کا عمل شفاف طریقے سے جاری ہے جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر آپ نے شاہ محمود قریشی سے اختلافات ختم کئے ہیں تو کیا جہانگیر ترین سے بھی اختلافات ختم کریں گے تو انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین میرے بزرگ ہیں میں کسی بھی وقت ان کے پاس جاسکتا ہوں جیسے ہی معاملات ٹھیک ہوں گے میں ان سے ملاقات بھی کروں گا عوان عباس بپی نے کہا کہ نوجوان میرا سرمایہ ہیں میں ان کو ساتھ لیکر چلوں گا آئندہ دوسالوں میں حکومت کی ترجیحات میں کارکنوں کو نوکریاں دینا اور ان کے مسائل کا حل ہمارے بنیادی ایجنڈے کا حصہ ہے اور میں نوجوانوں کے حقوق کی ہر سطح پر جنگ لڑوں گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں