9

یہ جو بابا ہوتے ہیں ناں……

باپ کو بھی خالق نے عجب چیز بنایا ہے،جسے صرف دینا آتا ہے وہ خود اپنے لئے کبھی نہیں جیتے یا شائد جی ہی نہیں پاتے زندگی بھر کی کمائی جو انتہائی محنت سے کماتے ہیں اس کا شائد پانچ فیصد بھی اپنی ذات پر نہیں لگا پاتے کہ گھر والوں کی کوئی ضرورت یا خواہش ادھوری نہ رہ جائے،یہ اپنی جوانی، خواہشیں ، محنتیں، صلاحیتیں صرف کر کے اپنے گھر والوں کو خوشیاں دینے کی کوششوں میں مگن رہتے ہیں،یہ جو بابا ہوتے ہیں نا یہ پورا ہفتہ صبح جاتے اور رات کو آتے ہیں‌ اور تو اور ان کا چھٹی کا دن زیادہ مصروف گزرتا ہے،گھر کے کام نمٹاتے ، گھر کا سامان پورا کرتے،ٹونٹیاں ، پنکھے، چارپائیاں ٹھیک کراتے ان کاچھٹی کا دن گزر جاتا ہے وہ آرام بھی اس لئے نہیں کر پاتے کہ ان کے گھر والوں کو اگلے ہفتے کے دوران کوئی تکلیف نہ ہو پریشانی نہ ہو اور اس باپ کی عظمت کا صلہ بھلا کون دے سکتا ہے جو اپنی بیوی اور بچوں کے سکھ کے لئے ساری زندگی دیار غیر میں موسموں کی شدت برداشت کرتا ہے،جن کے لئے خود کو اذیت میں رکھتا ہے ان کے ساتھ تو وقت بھی نہیں بتا پاتا،وہ بچوں کی معصوم شرارتوں سے محظوظ ہی نہیں ہو پاتا،
بابا،کئی کئی سیزن ایک ہی کپڑوں میں جانے کیسے نکال لیتے ہیں،پیوند لگا لیتے ہیں،مگر اولاد کے لئے ہمیشہ نئے کپڑے لینا نہیں بھولتے ،عیدوں‌ اور تہواروں پر جیسے تیسے بیوی بچوں کے جوتے کپڑے خریدتے ہیں اور پھر بقیہ پیسے ان کو عیدی دینے کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں،اپنے لیے کچھ نہیں خریدتے،پوچھو تو کہیں گے ابھی تو لیا تھا،بس عید نماز ہی تو پڑھ کر آجانا ہے اب سونے کے لئے کیا نئے کپڑے خریدنا ضروری ہے بھلا ۔؟؟
اور یہ جو والدین ہوتے ہیں نا بڑھاپے میں اپنی بیماریاں اولاد سے چھپانا شروع کر دیتے ہیں کہ کہیں اولاد اپنی ساری کمائی ان کی بیماری پر نہ لگا دے اور خود پریشان ہو،گھر میں ائرکنڈیشن ہوں سارے اپنے کمروں میں یخ بستہ ہواؤں میں موسم کی حدت سے محفوظ ہوں ایسے میں صرف بابا یا اماں کے کمرے میں اے سی نہیں چلتا کہ بچوں پر بجلی کے بل کا اضافی بوجھ نہ پڑ جائے ۔۔اگر بچے کبھی کہہ دیں شدید گرمی ہے اپنا خیال کیوں نہیں رکھتے تو سارے والدین ایک ہی جواب دیتے ہیں کہ اے سی کی ٹھنڈ سے گھنٹوں کا درد جاگ اٹھتا ہے ۔۔
یہ بابا لوگ بڑے مضبوط ہوتے ہیں نا ۔۔یا مضبوط ہونے کا دکھاوا کرتے کرتے خود کو کمزور کرتے چلے جاتے ہیں،خون ،پسینہ، دن رات ایک کر کے گرمی سردی کے موسم میں اپنی جان کو مشقت میں ڈال کر اپنی کمائی سے اولاد کو جوان کرنے والے بابا تو کبھی جوان بیٹوں سے ان کی تنخواہ تک نہیں پوچھتے۔۔کہ کہیں اولاد یہ نہ سوچ لے کہ بابا کی ان کی تنخواہ پر نظر ہے ۔یا پھر اس لئے کہ ان کی اولاد کو آمدن چھپانے کے چکر میں جھوٹ نہ بولنا پڑ جائے،
کبھی سوچا آپ نے کہ یہ بابا لوگ ایسے کیوں ہوتے ہیں،
چلیں چھوڑیں جب بابا بن جائیں گے تو خود ہی سمجھ آجائے گی مگر بابا بن کر اپنی محبتیں اولاد پر وارتے ہوئے اپنے بابا کو اکیلا مت چھوڑ دیجئے گا کہ اکثر بابے بڑھاپے یا بیماری سے نہیں تنہائی سے مر تے ہیں بچوں کی جدائی سے مرتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں