9

10جولائی…ملتان میں طیارہ حادثہ کی یادیں!

10جولائی 2006 کی صبح پی آئی اے کی پرواز PK-688 کے ذریعے لاہور اور اسلام آباد جانے والے مسافر تقریباً گیارہ بجے سے ہی ایئرپورٹ پر آنا شروع ہو گئے تھے، الوداع کہنے والوں میں سے کسی کو بھی یہ علم نہ تھا کہ وہ اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھ رہے ہیں،ایئرپورٹ کی ڈراپ لین پر گاڑیاں رکتی رہیں اور مسافر اپنا سامان اٹھائے لاؤنج میں جاتے رہے،کوئی کسی کو روک نہیں سکا،ایئرپورٹ پر بار بار یہ پیغام گونج رہا تھا کہ جو مسافر پی آئی اے کی پرواز PK-688 سے لاہور اور اسلام آباد کے لیے سفر کر رہے ہیں وہ براہِ مہربانی اپنے بورڈنگ کارڈ وصول کر کے لاؤنج میں تشریف لے چلیں اور یہ کہ گیارہ بج کر چالیس منٹ پر چیک اِن کاؤنٹر بند کر دیا جائے گا،وہ جن کے ٹکٹ چانس پر تھے وہ سٹاف کی منت سماجت کر کے جہاز میں سوار ہونے کی فکر میں تھے اور وہ جن کی سیٹ دیر سے آنے کی وجہ سے منسوخ ہو گئی تھی وہ اپنے ذاتی اثر و رسوخ اور PIA کے اعلیٰ حکام سے رابطوں کے حوالے دے رہے تھے،چانس پر بورڈنگ کارڈ مل جانے والے اپنے آپ کو خوش قسمت تصور کر رہے تھے اور خوشگوار سفر کے خواب لیے لاؤنج کی جانب رواں دواں تھے،پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کا سٹاف مسافروں کی خدمت کے لیے کوشاں تھا،آموں کی پیٹیاں اور دیگر سامان کنویئر بیلٹ پر دھڑادھڑ لادا جا رہا تھا،PIA کے سٹاف ممبر سلیم شاہ نوبیاہتا دلہن کے ہمراہ عمرہ کا قصد کئے ہوئے تھے اور اسی پرواز سے لاہور جا رہے تھے،دوستوں کے ساتھ نیک خواہشات اور دُعاؤں کا تبادلہ ہو رہا تھا،لاؤنج کے اندر بہت سے مسافروں نے جا کر یہ معلوم کیا کہ طیارہ لاہور سے آ گیا ہے یا نہیں۔ بہت سے مسافروں نے شیشے کے دروازے سے باہر کھڑے ہوکر کو دیکھا اور تسلی سے بیٹھ گئے،اس سے پہلے لاہور سے آنے والی پرواز کے اعلان پر بہت سے مسافر اطمینان کا اظہار کر چکے تھے،دراصل طیارہ آ جانے کے بعد روانگی میں تاخیر اور پرواز کی منسوخی کے خطرات کم ہو جاتے تھے،بہت سے مسافر موبائل فون پر ملتان اپنے گھر اپنی روانگی اور لاہور اور اسلام آباد اپنے پہنچنے کے متوقع وقت کی اطلاع دے رہے تھے،لاؤنج میں کچھ مسافر ٹک شاپ سے کولڈ ڈرنکس اور چائے سے محظوظ ہو رہے تھے،بہت سے مسافر TV سیٹ سے ایئرپورٹ چینل کے پروگرام دیکھ رہے تھے،باہر ایئرپورٹ پر فلائٹ انجینئر اور ٹیکنیشن جہاز کے معائنے میں مصروف تھے،بہت سے دوسرے اہلکار بھی جہاز کے گِرد جمع تھے،جہاز کے اندر دو فضائی میزبان اخبارات کو ترتیب دے رہی تھیں اور تازہ مشروبات اور سنیکس کے ڈبے گن رہی تھیں،انہوں نے تمام انتظامات مکمل کر کے طیارہ کے اندر ایئر فریشنر سے سپرے کیا اور اپنے تئیں پرواز کی تیاری مکمل کر لی۔ فلائٹ انجینئر نے جو لاہور سے اسی جہاز کی انسپکشن کے لیے آئے تھے فٹنس سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے اور اسی پرواز سے واپس لاہور جانے کے لیے تیار ہو گئے،فلائیٹ انجینئر کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا کہ ان کے دستخط ایک اندوہناک حادثے کا پیش خیمہ بن جائیں گے،ادھر وی آئی پی لاؤنج میں آنے والے مسافران پرواز سے تھوڑی دیر پہلے ہی آئے تھے،بریگیڈیئر فرحت صابر اور بریگیڈیئر آفتاب احمد اسلام آباد کے لیے سفر کر رہے تھے۔ ان کے ہمراہ کیپٹن نوید تھے جنہوں نے ایک پریزنٹیشن میں ان دونوں افسران کی معاونت کرنا تھی۔ جسٹس نذیر احمد صدیقی اور جسٹس نواز بھٹی جو ایک کولیگ کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے جا رہے تھے مصروفِ گفتگو تھے۔ وائس چانسلر BZU اور ڈاکٹر افتخار راجہ بھی عازمِ سفر تھے۔اس روز شدید گرمی تھی۔ موسم صاف تو تھا مگر یوں لگتا تھا جیسے دور آسمان پر کوئی دھند یا بادل چھائے ہوں۔ ایسا گرمی کی شدت سے ہو جاتا ہے۔ فضا میں نمی کی زیادتی سے گھٹن کی سی کیفیت تھی، پسینہ ابلا پڑتا تھا۔ فضا میں ایک جمود سا طاری تھا، ہر مسافر کھویا کھویا اور پریشان سا نظر آتا تھا جیسے انجانے خوف میں مبتلا ہو۔ بہت سے مسافر خاموش تھے اور وہ جو باتیں کر رہے تھے وہ بھی کسی سوچ میں گم اور دنیا و مافیہا سے دور نظر آتے تھے۔ کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ نظامِ قدرت کچھ اس انداز میں چلنے لگتا ہے کہ جہاں کوئی اپنی مرضی نہیں کر سکتا۔ کچھ وقت کے لیے سوچنے سمجھنے اور اپنی دانست میں کچھ کرنے کی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں۔ سب روبوٹ بن جاتے ہیں۔ وہ ایک گھنٹہ سب کے لیے اسی طرح کا تھا۔ اگر یقین نہ آئے تو 10؍ جولائی کی دوپہر اپنے معمولات پر نظر دوڑائیں۔ حادثہ کی خبر اس قدر اچانک تھی کہ یہ کسی کہ وہم و گماں میں ہی نہ تھا۔ وہ وقت کسی کے اختیار میں تھا ہی نہیں،ایک فضائی میزبان نے سفر کی دُعا پڑھی کہ خدا نے انسان کے لیے اس سواری کو مسخر کیا۔ کچھ مسافر اپنے اپنے طور پر دُعا پڑھنے لگے اور کچھ آنکھیں موندے کچھ سوچتے رہے۔ بریگیڈیئر فرحت صابر نے چہرہ موڑ کر پیچھے کیپٹن نوید کو دیکھا جو یکدم الرٹ ہو گئے۔ وائس چانسلر نصیر احمد نے اپنے ہینڈ بیگ کو جو سامنے کی نشست کے اوپر کے خانے میں تھا دیکھا۔ جج صاحبان خاموشی سے اخبار دیکھتے رہے۔ ڈاکٹر افتخار راجہ زیرِ لب غالباً دُعائیں پڑھتے رہے۔ سلیم شاہ نے اپنی نوبیاہتا دلہن کی سیٹ بیلٹ باندھنے میں مدد کی۔ ڈاکٹر خواتین جو اکٹھے ایک سیمینار میں شرکت کے لیے جا رہی تھیں ایک دوسرے کی جانب دیکھا۔ ڈاکٹر حمیرہ اشرف نے جن کے شوہر پچھلے برس انتقال کر گئے تھے آنکھیں بند کر کے اپنے تینوں بچوں کو یاد کیا اور اُن کے لیے دُعا کی۔ طویل القامت بریگیڈیئر آفتاب جو سب سے اگلی نشست پر مشکل میں بیٹھے تھے پیچھے مُڑ کر بریگیڈیئر فرحت کی جانب دیکھا اور طیارے میں اچٹتی سی نگاہ ڈالی اور بظاہر کوئی سیٹ خالی نہ پا کر سیٹ بیلٹ باندھ لی، ہر مسافر کی خواہش تھی کہ طیارہ جلد روانہ ہو جائے۔ PIA کے سٹاف نے فوکر PK-688 کا دروازہ بند کر دیا اور یوں دنیا سے اس طیارہ اور اس کے مسافروں کا رابطہ ختم ہو گیا۔ پائلٹ کیپٹن حامد نے فوکر کے انجن سٹارٹ کیے اور دھیرے دھیرے رن وے کی طرف ٹیکسی کرنے لگے،بارہ بج کر پانچ منٹ پر اس طیارہ نے ٹیک آف کیا اور فوراً ہی پائلٹ نے اسے دائیں جانب موڑ لیا،جہاز کے انجن میں خرابی کے باعث اسے احساس ہوا کہ پرواز ممکن نہیں،لہٰذا فوراً کنٹرول سے رابطہ کیا جہاں سے اُسے واپس آنے کی ہدایت ملی جو کہ ممکن نہ تھا،بالآخر پائلٹ ایئرپورٹ سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر جہاز کو کریش لینڈنگ کرنے پر مجبور ہو گیا،پائلٹ بیلی لینڈنگ میں کسی حد تک کامیاب ہوا مگر آگ لگنے کے باعث پائلٹ سمیت 45 افراد جاں بحق ہو گئے،کنٹرول ٹاور سے رابطہ ختم ہونے پر جب پائلٹ نے کریش لینڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا تو نہایت عجلت میں اس کی اطلاع جہاز کے مسافروں کو دی،ابھی تمام مسافر سیٹ بیلٹ باندھے ہوئے تھے۔ موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے کئی افراد نے موبائل فون کی طرف توجہ دی۔ کچھ نے دُعائیں اور کلمے کا ورد شروع کر دیا مگر حادثہ اس قدر اچانک اور شدید تھا کہ کسی کو کچھ کرنے کی مہلت ہی نہ مل سکی۔ حادثے سے قبل ایک فضائی میزبان عامرہ سکندر ٹیل ٹوٹنے سے کریش سے قبل ہی باہر جا گری مگر جانبر نہ ہو سکی۔ایک پائلٹ کے حادثے کے بعد زندہ ہونے کے آثار سنے گئے مگر وہ بھی آگ کی لپیٹ میں آ چکا تھا۔ حادثے سے پہلے کی داستان تخیلاتی ہے۔ملتان کے ہر گھر میں اس حادثہ کے باعث ایک ہفتے تک سوگ کی سی کیفیت رہی ہے اور ہر فرد نے اسے اپنا دکھ سمجھا ہے۔ پہلی بار مجھے اس بات کا احساس ہوا ہے کہ ملتان زندہ لوگوں کا شہر ہے۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں