4

13 جولائی کا دن، کشمیریوں کے لئے مشعل راہ


کل جسے اہل نظر کہتے تھے ایران صغیرآج وہ کشمیر محکوم و مجبورا ورفقیر بن کر رہ گیا ہے،مقبوضہ وادی کشمیر کل کی طرح آج بھی لہو لہو ہے،جہاںقابض بھارتی فوج آزادی کے پروانوں، نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی ہے،مگر ان مجاہدوں کے جذبہ ٔ آزادی کو ختم کر سکی اور نہ کر سکے گی ،کیونکہ آزادی کے حصول تک کشمیریوں کا جذبہ کم نہیں ہوگا،آج بھی 13 جولائی ہے ،آزادی کشمیر کی تاریخ میں13جولائی1931ء کادن بڑی اہمیت کاحامل ہے ،اس دن اکیس کشمیری جوانوں نے اذان کی تکمیل کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھا ۔13جولائی کے دن سری نگرجیل کے سامنے لاکھوں کامجمع تھا،اتنے میں اذان کاوقت ہوگیاایک نوجوان اذان کہنے کے لئے دیوارپرچڑھا ابھی اس نے اللہ اکبرکہا ہی تھا کہ مجسٹریٹ کے حکم پر نشانہ باندھ کر اس کے سینے پرگولی ماردی گئی، اذان کا آغاز کرنے والا جام شہادت نوش کرگیا،یہ سخت آزمائش کا وقت تھا اب مسلمانوں کے پاس دو ہی راستے تھے ایک یہ کہ وہ اذان ادھوری ونامکمل چھوڑ دیں ،پیٹھ دکھا کر راہ فرار اختیار کرجائیں یا پھر سینوں پر گولیاں کھاکر اذان کی ابدی صدا کو مکمل کریں،چنانچہ جس جگہ کھڑے ہو کر پہلے نوجوان نے اذان کے دو جملے کہے تھے، اسی دیوار پر ایک دوسرا نوجوان کھڑا ہوا اور پہلے نے جہاں سے اذان چھوڑی تھی اس سے آگے اذان شروع کردی ۔مجسٹریٹ کے حکم پر اسے بھی فائرنگ کر کے شہیدکر دیا گیا ۔ یکے بعد دیگرے اسی طرح 21افراد جام شہادت نوش کر گئے ،لیکن اذان مکمل کرگئے ۔اذان کی خاطر جام شہادت نوش کرنے والوںمیں بچوں سے لے کر جوان اور بوڑھے سب شامل تھے،اس طرح کشمیر یوں نے اپنے لہوسے ایک ایسی تاریخ رقم کی، جو ان کی اسلام سے بے لوث محبت کی روشن مثال ہے ۔جب 21افراد کی شہادت کی خبروادی میں پہنچی تو پوری ریاست میں ہڑتال ہوگئی اور ہر قسم کی کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا، جامع مسجد سرینگر جہاں سب جنازے رکھے گئے تھے لوگ اس کی طر ف جا رہے تھے ۔ عوام کے مشتعل جذبات دیکھ کر حکومت نے فوج کوحکم دیاکہ وہ شہدا کی لاشیں چھین لے ،اس موقع پر نہتے عوام اور فوج میں بھی تصادم ہوا، فوج نے اپنی پوری طاقت استعمال کی ،فائرنگ سے جامع مسجد سری نگر کے درودیوار چھلنی ہوگئے ، اس دوران کئی نوجوان بھی شہید ہو گئے مگر اس کے ساتھ ساتھ مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت بھی ہل کر رہ گئی ۔13جولائی کی بازگشت ریاست جموں کشمیر کے علاوہ پورے بھارت میں سنائی دی ۔یہ پہلا موقع تھا کہ جبب بھارت کے مسلمان اپنے مظلوم کشمیری مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے، چنانچہ25جولائی 1931ء کو شملہ میں آل انڈیا کشمیر کانفرنس طلب کی گئی، جس میں شاعر مشرق علامہ محمداقبالؔ ،خواجہ سلیم اللہ نواب آف ڈھاکہ،مولانا ابوالکلام آزاد ،خواجہ حسن نظامی،نواب سر ذولفقار علی خان،میاں نظام الدین،مولاناشوکت علی خان ،مولانا عبدالمجید سالک،سید حبیب شاہ،مولانا اسماعیل غزنوی،مرزا بشیر الدین،اے آرساغر،مولانا عبدالرحیم درد ؔاوران جیسے بیسیوں زعماء نے شرکت کی۔اس موقع پر کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایاگیا اور14اگست1931ء کو اظہار یکجہتی کشمیر کادن منایا گیا۔گو کہ مرزا بشیرالدین محمود کی وجہ سے کشمیر کمیٹی زیادہ عرصہ نہ چل سکی، مگر اس کے اثرات بہت دیرپا ثابت ہوئے اور پورے بھارت کے مسلمان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔13جولا ئی کو کشمیریوں کی قربانیوںکے نتیجے میں ان کی بات کو سنا گیا ۔امر واقعہ یہ ہے کہ ڈوگرہ راج کے ظلم کا سیاہ دور13جولائی کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت تمام ہوا، اورپاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر کا خطہ بھی اس دن کے شہدا کی قربانیوں کی بدولت آزاد ہوا ہے۔یہی وجہ ہے کشمیری قوم 13جولائی کا دن آج بھی پورے جوش وخروش سے مناتی ہے۔ 13جولائی کادن کشمیری قوم کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتاہے،وادی کشمیر میں آج بھی بھارتی افواج مظلوم کشمیری عوام کا خون جس بے دردی سے بہارہی ہے اس پر عالمی سطح پر اقدامات کی فوری ضرورت ہے ، دنیا بھر میں امن پسندوں کی جانب سے جب بھی صدائے احتجاج بلند ہوئی ، تب تب مقبوضہ وادی پر قابض بھارتی افواج کے مظالم کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے ۔ ان کشمیریوں کا قصور صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ اپنی سرزمین کی آزادی چاہتے ہیں،برصغیر کی تقسیم کے بعد سے لے کر اب تک مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے ہاتھوں ظلم و ستم کا بازار گرم ہی رہا ہے، مگر ان کے جذبہ آزادی کو کو ئی بھی سرد نہ کرسکا ،تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ آزادی کے پروانوں کی شہادتوں نے ہمیشہ وادی کے کشمیریوں کے لہو کو گرمائے رکھا ۔ مقبوضہ وادی کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کے سامنے حق خودارادیت دینے کا جو وعدہ اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم نے کیا تھا وہ کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا، بلکہ وادی پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے بھارت نے کالے قوانین کو نافذ کر کے کشمیری عوام پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا لامتناہی سلسلہ جاری کر رکھا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کے موقف کی کھل کر حمایت کی ہے اور عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کے مسئلہ کو کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کروانے پر زور دیا اور ہر فورم پر کشمیریوں کے موقف کی کھل کر حمایت کی، او آئی سی کے ہونے والے ایک اجلاس کے اعلامیے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش کو بھی سراہتے ہوئے کہا گیا تھا کہ پاکستان نے کشیدگی میں کمی کے لئے بھارتی پائلٹ واپس کر کے خیرسگالی کا اشارہ دیا ہے ۔ او آئی سی نے بھارت کو انتباہ کیا کہ وہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے۔یہ حقیقت ہے کہ مقبوضہ وادی کشمیر کا مسئلہ جب تک حل نہیں ہو جاتا اور کشمیریوں کو ان کا حقِ خودارادیت نہیںمل جا تا اس وقت تک خطے میں امن قائم رہنا ممکن نہیں ہے۔ کشمیری عوام 70 سالوں سے زیادہ عرصہ سے آزادی کی پُرامن جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی آواز کو دبانے کے لئے ظالم بھارتی فوج جو کارروائیاں کر رہی ہے آج ساری دنیا اسے دیکھ رہی ہے اور اس کی مذمت کر رہی ہے ،انشااللہء وہ دن جلد آئے گا جب کشمیریوں کی جدوجہداور شہدا کی قربانیاں رنگ لائیں گی اور وادی کے عوام آزاد فضاؤں میں سانس لے سکیں گے۔آزادی کی راہ میں کشمیریوں کی قربانیوں کا یہ سفر جاری ہے اوریہ سفرمقبوضہ وادی کشمیرکی آزادی تک جاری رہے گا ۔
بشکریہ نوائے وقت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں