13

17 فیصد ٹیکس کیخلاف جنرز کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

بہاول پور،حکومت نے کپاس پر ٹیکس10 فیصد سے بڑھا کر17 فیصد کردیا ہے،جو پہلے سے بے حال کاٹن انڈسٹری کیلئے زہر قاتل ہے، دوسری طرف کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی ہورہی ہے،گزشتہ سال کپاس کی 1کروڑ 48 لاکھ گانٹھ کی پیداور ہوئی تھی رواں سال کپاس کی پیداوار کم ہوکر صرف56 لاکھ گانٹھ رہ گئی ہے،اب نئے ٹیکس کے نفاذ سے کاٹن انڈسٹری کا چلنا محال ہوگا،ان خیالات کا اظہار آل پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیرمین ڈاکٹر جسومل نے پی سی جی اے کی جنرل کونسل کے بہاول پور میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ حکومت کپاس پر عائد نیا ٹیکس فوری واپس لے،انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی سے بھی ملاقات کی گئی سپیکر نے ٹیکس ختم کرانے کا وعدہ کیا ہے،لیکن وہ وعدہ وفا نہ ہوا،انہوں نے کہا کہ کپاس کی پیداوار 14 ملین سے گھٹ کر5 ملین تک پہنچ گئی ہے،انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پریشر کی وجہ سے یہ ٹیکس لگایا گیا ہے،انڈسٹری کو بچانے کے لئے سخت فیصلے لینے پڑیں گے،جبکہ ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اس کی کوئی سمجھ بوجھ ہی نہیں ہے،ٹیکسز واپس نہ لئے گئے توملک گیر احتجاج کریں گے اورٹیکسز کی واپسی تک فیکٹریاں بند رکھیں گے،سابق وائس چیرمین شیخ عاصم سعید نے کہا کہ کپاس اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس کی کمرگنے کی کاشت سے توڑی جارہی ہے،انہوں نے کہاکہ گناایک پولیٹکل کراپ ہے8 ملین بیلزاس سال امپورٹ کی گئی بگڑتی ہوئی اس انڈسٹری کوسنبھالادینے کے بجائے اس پرمزیدٹیکس لگادیئے گئے،اس موقع پر وائس چیرمین میاں فضل الہیٰ‘ چوہدری مسعود مجید‘حاجی اکرم‘میاں محمود‘ شیخ عمادالدین‘چوہدری سلیم‘ سرفرازناظم‘ونودکمار‘پریم چندکوہستانی‘ مختاراحمدبلوچ‘ نعیم شکیل‘ رمیش کمار‘ ملک طلعت ،سیٹھ ارشد ودیگرنے بھی خطاب کیا اور وزیراعظم سے فوری طورپر ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں