18

ساست اور قبضہ گروپ اور قانون


ساست اور قبضہ گروپ اور قانون

سیاسی جماعتوں کے چند رہنماوں پر قبضوں اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کے الزامات لگتے رہتے ہیں ۔ایسے عناصر حکمران جماعتوں میں اپنی جگہ بنا کر عہدے حاصل کرتے ہیں اور پھر انہی کارروائیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں جن سے وہ مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ حکمران جماعت تحریک انصاف میں بھی ایسے عناصر اپنی جگہ بنا کر مفادات اور مقاصد حاصل کررہےہیں اس کی بڑی وجہ پارٹی کے مقامی عہدیدار اور ذمہ داران ہیں جو ـــ غیر معمولی پارٹیوں کے لالچ اور پھر بلیک میلنگ میں آکر ایسے عناصر کو اپنے ساتھ رکھ لیتے ہیں بعد میں عہدے بھی دلواتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ملتان میں بھی اسی نوعیت کا معاملہ پیش آیا پی ٹی آئی یوتھ ونگ کے عہدیدار راو یاسر جن پر قیمتی اراضی پر قبضوں کے حوالے سے ٹھوس الزامات پہلے سے تھے نے ضلعی صدر خالد جاوید وڑائچ سے راہ و رسم بڑھایا انہیں اچھی پرائیوٹ پارٹیوں میں متعارف کرایا کچھ عرصہ کے بعد ہی راو یاسر کو یوتھ ونگ کا عہدہ دیدیا گیا جس پر پارٹی کے چند اہم عہدیداروں نے شور بھی کیا تاہم راو یاسر پارٹیوں کے بل بوتے پر اپنا عہدہ پکا کرنے میں کامیاب ہوگئے مگر کچھ عرصہ میں ہی ان کی سرگرمیاں واپڈا ٹاون اور ملتان پبلک سکول روڈ پر کمرشل اراضیوں پر قبضوں کی صورت میں بڑھ گئیں،متاثرین کی تعداد روز بروز برھتی گئی مگر قانون خاموش رہا تاہم کچھ عرصہ بعد ایک رکن قومی اسمبلی کیطرف سے اس کا سخت نوٹس لیا گیا اور معاملہ اوپر تک پہنچایا گیا تو قانون کو آخر مجبورا حرکت میں آناپڑا جو غریب عرصہ سے درخواستیں لے کر تھانوں او ر پولیس افسران کے دفاتر کے چکر لگا رہےتھے اچانک انکی لاٹری جیسے نکل آئی ہو،دھڑا دھڑ پولیس نے اوپر تلے آٹھ مقدمات درج کرلئے اور راو یاسر کو فوری گرفتار بھی کرلیا،پولیس کےمطابق خالد جاوید وڑائچ جن کا اپنا سکول سسٹم بھی ہے راو یاسر کو چھڑا نے خود تھانے پی زیڈ بھی پہنچ گئے۔بات چیت ہوئی مگر بے سود رہی جس کے بعد وہ واپس جانے پر مجبور ہوگئے ۔ان کیسوں کے انداج کے حوالے سے احمد حسن ڈیہڑ کا نام سامنے آرہاہے جو اچھا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ قانون تب ہی نقل و حرکت کرتاہے جب تک اسے چابی نہ لگائی جائے اور نوسرباز وارداتیے ہر وقت اس تاڑ میں رہتے ہیں کہ کس طرح وہ اقتدار میں آسکتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں