14

8 بچوں کے باپ کا قتل‘ متاثرہ خاندان کا لودھراں پولیس کیخلاف مظاہرہ

لودھراں(نمائندہ پی این این اردو)9 ماہ قبل 8 بچوں کے باپ کا قتل‘ پولیس کا ملزمان کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ خاندان پر دباؤ‘ بیوہ انصاف کیلئے دربدر‘ متاثرہ خاندان کا احتجاج۔مقتول کی معصوم بیٹیوں کی چیخ چیخ کر آہ و بکا۔ ہمارے والد کے قاتلوں کو گرفتار کر کے ہمیں انصاف دلائیں،تفصیل کے مطابق پریس کلب لودھراں میں تھانہ صدر لودھراں کے علاقہ ڈانوراں کے رہائشی مقدمہ کے مدعی مقتول کے 20سالہ بیٹے جنید احمد نے اپنی والدہ بہن بھائیوں اور درجنوں رشتہ داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 25 نومبر 2020 کو ہم بہن بھائی اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی پھوپھو کے گھر میلاد میں گئے ہوئے تھے،گھر میں میرا والد عبدالغفار عرف ببو اور 12 سالہ چھوٹا بھائی محمد احمد موجود تھے کہ اڑھائی بجے دن میرے والد اور بھائی نے اکٹھے کھانا کھایا جس کے بعد بھائی گھر سے باہر چلا گیا۔اور 3 بج کر 15 منٹ پر احمد گھر واپس آیا تو گھر کا دروازہ بند تھا۔دروازہ نہ کھلنے پر احمد دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوا تو دیکھا بیڈ پر میرا والد عبدالغفار خون میں لت پت پڑا ہے،میرے والد کی گردن کو تین جگہ سے کاٹا گیا تھا،جس کا مقدمہ نمبر 704/20بجرم 302نامعلوم کے خلاف درج کروا دیا،ہم نے دو بھائیوں علی وقاص اور واصف علی پسران عبدالرشید کے خلاف شبہ کا اظہار کیا تو سابق ایس ایچ او فیضان قیوم اور تفتیشی گلباز نے انہیں حراست میں لیا اور چند روز بعد چھوڑ دیا،مقتول کی بیوہ اور مقدمہ کے گواہوں نے الزام لگایا کہ ہم سابق ڈی پی او اور موجودہ ڈی پی او،سابق اور موجودہ ایس ایچ او اور ڈی ایس پی صدر کے پاس چکر لگا کر تھک چکے ہیں،بیوہ نے کہا کہ میرا خاوند سائیکل پر پھیری لگا کر کپڑا فروخت کرکے بچوں کا پیٹ پالتا تھا،مگر پولیس کو میرے ان معصوم بچوں پر بھی ترس نہیں آتا،مقتول کی معصوم بیٹیاں چیخ و پکار کرتے ہوئے رو رو کر فریاد کر رہی تھیں کہ ہمیں انصاف کون دلائے گا،بیوہ اور بچوں نے چیف جسٹس آف پاکستان۔ وزیراعظم پاکستان۔ وزیر اعلیٰ پنجاب۔ آئی جی پنجاب پولیس آر پی او ملتان سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں