حکومت نجکاری کے لیے 7 اداروں کا انتخاب کرچکی ہے: آئی ایم ایف

اسلام آباد: (پی این این اردو) آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ حکومت نجکاری کے لیے 7 اداروں کا انتخاب کرچکی ہے، پی آئی اے اور سٹیل ملز کا آڈٹ غیر ملکی فرم سے کرایا جائے گا۔ پاکستان کی 30 فیصد آبادی غربت کی زندگی گزار رہی ہے، پاکستان کو سماجی و اقتصادی بنیاد پراعداد و شمار مرتب کرنا ہونگے۔

عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق قومی ایئر لائین، پاکستان ریلویز اور سٹیل ملز کا خسارہ بڑھ رہا ہے، سرکاری اداروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کے لیے انھیں پہلے 3 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، اس کے بعد کچھ اداروں کو فروخت، کچھ کو بند اور کچھ کو سرکاری کی ہی تحویل میں ہی رکھنے کا فیصلہ لیا جائے گا۔

پی آئی اے اور سٹیل ملز کی آڈٹ رپورٹ دسمبر 2019 تک شائع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کہتا ہے کہ سرکاری اداروں کو چلانے کے لئے قانون اسٹیٹ اونڈ انٹر پرائزز ستبر 2020 تک پارلیمنٹ میں بحث کے لیے پیش کر دیا جائے گا، اس قانون کی تیاری میں ادارہ تکنیکی معاونت بھی فراہم کرے گا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف کی بہت سی شرائط میں سے ایک غربت میں کمی لانے کےلیے بھی ہے جس کے لیے آئی ایم ایف نے پاکستان کو کچھ ہدایت اپنی اسٹاف رپورٹ میں جاری کی ہیں۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں غربت کے خاتمے کےلیے سب سے کم کام کیا اسی لیے ملک میں غریب افراد کی آبادی 30فی صد ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غربت میں کمی لائی جاسکتی ہے جس کےلیے سماجی و اقتصادی بنیاد پر اعداد و شمار جون 2020 تک مرتب کرنے ہونگے۔ ان اعدادوشمار کی بنیاد پر احساس پروگرام کے تحت 5 ہزار روپے کی تقسیم بہتر طریقے سے ہوسکے گی۔ ساتھ ہی اکتوبر 2019 تک 60 لاکھ خواتین کے بینک اکاونٹ کھولے جائیں تا کہ بے نظیر سپورٹ پروگرام کی رقم براہ راست انکو مل سکے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی پروگرام کے تحت لڑکیوں کی تعلیم کوبڑھایا جائے اور طلبا کو 250 روپے کا سہ ماہی وظیفہ دسمبر 2019 سے شروع کیا جائے۔ اس کے علاوہ بی آئی ایس پی پروگرام کے تحت گریجوایشن اور غذائی قلت کی کمی کا پروگرام بھی شروع کیا جائے۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.