صابر شاکر کے مطابق ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایکٹیو ہوگئی ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی ایکسٹینشن کے لیے ہونے والی قانون سازی کے بدلے میں اپنی کون کون سی بات منوائی جانی ہے۔

اسلام آباد ( پی این این اردو، ویب ڈیسک، سوشل میڈیا رپورٹ)صابر شاکر کے مطابق اپوزیشن جماعتیں قانون سازی کے حق میں ووٹ دینے کے لیے ان ہاوس تبدیلی کی شرط رکھیں گی اور درجذیل شرائط رکھی جائیں گی

1.عمران خان کی جگہ پی ٹی آئی سے کسی کو بھی وزیراعظم بنا دیا جائے۔

2.اپوزیشن مطالبہ کرے گی کہ قومی حکومت بنائی جائے۔

3۔اپوزیشن کا مطالبہ ہوگا کہ ہماری نیب کیسز کی رفتار کم کی جائے

4.اپوزیشن شرط عائد کرے گی کہ آرمی چیف کی ایکسٹیشن کے قانون کے ساتھ نیب قوانین کابل بھی پاس کیا جائے۔

صابر شاکر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اس قانون سازی کی آڑ میں زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرے گی

جبکہ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اتحادی جماعتیں بھی میدان میں ہیں اور حکومت کے اپوزیشن سے اختلافات زیادہ ہوں گے کم نہیں ہوں گے۔

فوج نے عمران خان حکومت کو ہٹانے پرغور شروع کردیا ہے،نجم سیٹھی کا دعویٰ

صابر شاکر نے عندیہ دہیا ہے کہ آرمی چیف کی ایکسٹیشن کے لیے ہونے والی قانون سازی میں ق لیگ بھی حکومت کو ٹف ٹائم دے گی۔

صابر شاکر کے مطابق صورتحال گھمبیر ہے اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت کی بھی اہمیت بڑھ چکی ہے۔

صابر شاکر کے مطابق اپوزیشن جماعتیں کا خیال ہے کہ آرمی چیف کے حوالے سے قانون سازی یہ حکومت نہ کرے۔

صابر شاکر کے مطابق حالت بہت Critical ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے عثمان بزدار کو نہ ہٹانے کے اعلان کے ساتھ پنجاب میں بھی سیاسی پنڈتوں نے جورتوڑ شروع کردیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے پنجاب اسمبلی اور قومی اسمبلی کے ناراض اراکین کو توڑنے کی کوششیں شروع کردی گئی ہیں۔صابر شاکر کے مطابق ن لیگ چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانے پر تیار ہوگئے ہیں لیکن چوہدری برادران اس پر راضٰ نہیں ہیں۔

Facebook Comments

POST A COMMENT.