فوج نے عمران خان حکومت کو ہٹانے پرغور شروع کردیا ہے،نجم سیٹھی کا دعویٰ

اسلام آباد:(پی این این اردو)صحافی نجم سیٹھی نے اپنے یو ٹیوب چینل کے ایک پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو نا اہل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہایت نا اہل حکومت کے نااہل مشیر ، وزراء ، اٹارنی جنرل اوروزارت قانون میں نکمے لوگ ہیں جنہوں نے ایسی صورتحال بنائی فوج ان کو گھر بھیجنے پر غور کررہی ہے۔

آرمی چیف کی توسیع سے متعلق کیس میں لوگوں کی توقعات بھی بڑھ گئی پھر جج حضرات کے ”پر ”کھل گئے کہ ہم ہیں نا ،جس پر پھر میڈیا پاگل ہو جاتا ہے ۔چیف جسٹس نے اس کیس کو لیکر اٹارنی جنرل کی ” پٹائی” کی او رکہا کہ اسسٹنٹ کمشنر ان سے بہتر ڈارفٹنگ کرتے ہیں اور آپ کیا کرتے ہیں ان کی ڈگریاں چیک کریں ایک تاثر تھا کہ یہ حکومت ”زیر و بٹا زیر و”ہے وہ اب کنفرم ہو گیا ہے ، حکومت اور فوج ایک پیج پر ہونے کابیانیہ چل رہا تھا ۔اگر آپ میں سے کوئی بھی فوج میں ہوتا تو کیا سوچتا اس حکومت کے بارے میں کہ اتنی ”نکمی ” حکومت ہے جس کو ہم سپورٹ کر رہے ہیں اور وہ ہمارے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں ،آرمی چیف کوبھی مشکل میں ڈال دیا گیا ہے وہ کبھی ادھر آ رہے ہیں کبھی ادھر جا رہے ہیں اور اس کے بعد صرف چھ ماہ کی توسیع ملی ہے اب کوئی سوچ رہا ہوگا کہ ”ہم کس کی کشتی میں بیٹھے ہیں”اور” کس کی کشتی کو ہم چلا رہے ہیں” کیونکہ یہ فوج کی شرمندگی ہوئی ہے اس معاملے کو مس ہینڈ ل کیا گیاہے اس کے اور بہت پہلوئوں ہیں اب تو حکومت کے حمایتی کہہ رہے ہیں کہ حکومت نالائق اور نکمی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تاثر ملا کہ آخری دن سماعت کے دوران ہتھ ہولا رکھا گیا لیکن اس کیس کو لیکر ایسی بات نہیں ہے ۔بات یہ ہے کہ اس قسم کے جب بڑے کیسز ہوتے ہیں اور ایسا تاثر ہو کہ حکومت کا تختہ الٹ رہا ہے اور وزیر اعظم جا رہا ہے تو پھر میڈیا کی خصوصی دلچسپی ہوتی ہے اور ججز بھی گیلری کیلئے کھیلتے ہیں اور پھر وہ سرخیاں بنتی ہیں ۔عوامی سماعت ہو تو دلچسپی بڑ ھ جاتی ہے ،اور جب کیس میں حکومت ، اپوزیشن، آرمی ، وزیراعظم و غیر ہ وغیرہ ہو پھر جج حضرات بھی” پر” پھیلاتے ہی کہ” میں ہوں نا” ۔سماعت کے دوران بہت سی باتیں گیلری کیلئے ہوتی ہیں لیکن جب یہ ہو رہا تھا توسنجیدہ لوگ جانتے تھے کہ جو غصہ دکھایا جا رہا ہے معاملہ کہیں اور جاکر رکے گا اورپانی کا لیول نیچے آئیگا لیکن یہ ٹوپی ڈرامہ نہیں تھا۔عدلیہ نے جب پٹیشن ٹیک اپ کی تو یہ بغیر سوچے سمجھے نہیں کیا تھا اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ کوئی بڑی چیز ہونے والی ہے ۔

نجم سیٹھی کے بعد سینئر صحافی صابر شاکر نے بھی خوفناک خبر دے دی

انہوں نے کہا کہ دراصل آرمی چیف کی مدت ملازمت میں دو ، تین دن رہ گئے تھے اورمختلف افواہیں پھلائی گئی۔میرا پہلے دن سے ایک ہی موقف تھا کہ یہ سارا بحران ہونا ہی تھا کیونکہ حکومت نے بڑی غلطی کی تھی لیکن یہ اچھا فیصلہ ہے یہ نورا کشتی نہیں تھی اور نہ ہی ٹوپی ڈرامہ تھااور کسی سٹیج پر یہ مقصد نہیں تھا کہ جنرل باجوہ کو شرمندہ کیا جائے یا فوج کو عدلیہ کے ذریعے پیچھے دھکیلا جائے ۔بہت اچھا فیصلہ ہے جو جمہوریت کیلئے اچھا ثابت ہوگا ۔اس فیصلے کے چار پہلوئوں ہیں ۔دو قانونی اور دو سیاسی ۔قانونی پہلوئوں یہ ہیں کہ مسئلہ ہی نہیں ہے آرڈیننس آسکتا ہے ، ایکٹ آف پارلیمنٹ آ سکتا ہے کسی قسم کی اپوزیشن کی سپورٹ کی ضرورت نہیں ہے ایک اور یہ کہ آریٹکل 243کو کلئیر کریں قانون سازی کریں ۔لفظ ترمیم کا استعمال نہیں کیا گیااب کچھ لوگ کہہ رہے کہ ترمیم ہونی ہے ۔جبکہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایک سادہ اکثریت سے یا پھر دو تہائی سے ہونا ہے ۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ فیصلہ کے بعد عمران خان نے ٹوئیٹ کیا کہ مافیا فیل ہو گیا ہے ، رستہ کھل گیا ہے ۔ان کا خیال ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے معاملہ حل کر دیا جائے گا۔لیکن اپوزیشن نہیں مانے گی اور کہے گی کہ ترمیم کرنی ضروری ہے یہ اتنا آسان کام نہیں ہے اگر سادہ اکثریت سے پاس کرتے ہیں تو یہ چیلنج ہو سکتی ہے پھر معاملہ عدالت میں جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر یہ جنگ عدالتوں اور پارلیمنٹ میں ہونی ہے تو پھر حکومت ناکام ہوتی ہے اور ظاہر ایسا ہوتا ہے کہ حکومت یہ کروا نہیں سکتی تو سب سے زیادہ غصہ جی ایچ کیو میں ہونا ہے ۔پہلے ہی وہ پریشان یا شاید ناراض ہوں کہ حکومت نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے ، ہم ایک پیج ایک پیج کی بات کرتے ہیں اور یہاں سنگین قسم کے معاملے چل رہے ہیں ۔وہاں ”سول سرچنگ ”ہو رہی ہوں گی ”غصہ ”بھی ہوگا ،دماغ لڑیا جا رہا ہوگا، رنجش بھی ہوگی ،اور سوچ رہے ہوں گے ان کو کیسے چلانا ہے یہ تو ڈرافٹنگ نہیں کر سکتے، ”زیر و بٹا زیرو” لوگ رکھے ہیں ۔اس پر نظرثانی کرنا پڑے گی کہیں یہ ہمیں مرواہی نا دیں۔چھ ماہ ایسے گزر جائیں گے انہیں سیکھانا پڑے گ

Facebook Comments

POST A COMMENT.